کراچی کے دیہی علاقوں میں ہر چار میں سے ایک فرد ہیپا ٹائٹس کے موذی مرض کا شکار

جمعرات اپریل 18:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) کراچی کے دیہی علاقوں پر مشتمل ملیر گڈاپ اور بن قاسم کے 300 سے زائد گوٹھوں کے لاکھوں مکینوں کو ہیپا ٹائٹس سی کے مرض سے جکڑ رکھا ہے ہر چار میں سے ایک فرد ہیپا ٹائٹس کے موذی مرض کا شکار ہے جس کے نتیجے میں یومیہ بنیاد پر ہلاکتیں ہورہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ملیر ،گڈاپ اور بن قاسم کے دیہی علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی کا مرض عام ہے جس کے باعث 300 سے زائد گوٹھوں میں مرض کا شکار اموات روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سروے میں ہیپا ٹائٹس سی کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ علاقے میں ہر چار میں سے ایک شخص ہیپا ٹائٹس سی کا مریض ہے۔ ہیپا ٹائٹس کے خلاف سرگرم سماجی رہنما کے خاندان کے 10 افراد کو مہلک بیماری نگل گئی۔

(جاری ہے)

سابق یونین کونسلوں کے 5 ناظمین بھی ہیپا ٹائٹس کا شکار ہوکر چل بسے۔ محکمہ صحت دعووں اور وعدوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ نجی این جی او کو اسپتال اور ڈسپنسریاں حوالے کرنے سے بھی صورتحال بہتر نہ ہوسکی اور بیماری کی تشخیص کے لئے اسکریننگ سینٹر قائم نہیں کئے جاسکے۔ سابق وزیر صحت ڈاکٹر صغیر نے علاقے کے دورے میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا،محکمہ صحت عطائی ڈاکٹر کی دکانیں بند کراسکا نہ بیماری کی روک تھام کیاقدامات کئے گئے۔

متعلقہ عنوان :