باراوربنچ نہ جدا ہونیوالے حصے ہیں، بار اورعدلیہ کو سسٹم کی بہتری کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا

چیف جسٹس ثاقب نثار کا پشاورہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنزکی تقریب سے خطاب

جمعرات اپریل 18:45

باراوربنچ نہ جدا ہونیوالے حصے ہیں، بار اورعدلیہ کو سسٹم کی بہتری کیلئے ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہا ہے کہ بار اوربنچ نہ جداہونیوالے حصے ہیں اوران دونوں کو ایک ٹیم کی طرح سسٹم کی بہتری کیلئے کام کرناہوگا تاکہ سسٹم میں اصلاحات لائی جاسکیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاورہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنزکی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے اپنے ہائوس کو ان آرڈرکرناہے لوگوں کے فیصلے تاخیرسے ہوتے ہیں ، وکلاء اور عدلیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کوفوری انصاف کی فراہمی میں اپناکرداراداکریں۔انہوں نے کہاکہ وکلاء نے مجھے شرمندہ نہیں کرنا اوراپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ عدلیہ کی جدوجہد میں وکلاء کوبھی اپنا کردار ادا کرناچاہئے، مقدمات کے طول کو کم کرنے کیلئے ہم نے ایک کمیٹی بنائی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اکیلے اس نظام کو ٹھیک کرنے کی استطاعت نہیں، مسائل حل کرنا تمام ججز کی ذمہ داری ہے اور جیسے بھی مصائب ہوں گے اس میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جو قانون کے ساتھ آتی ہیں اور میں قانون بنانے والا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کرانے والا ہوں جو سہولیات فراہم کی گئی ہیں انہیں کے تحت کام کر رہے ہیں۔۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ دفتر نے کئی کیسز پر اعتراضات لگا کر اپنے پاس رکھا تھا، ان کیسز کو سننے یا نہ سننے سے متعلق فیصلہ ججز کو کرنا تھا دفتر کو نہیں، اس طرح کی 225 پٹیشن میرے پاس آئیں جو روزانہ 10،10 کر کے نمٹائیں۔