سالانہ 73 ہزار سے زائد حفاظ کرام کی تیاری پاکستان کیلئے پوری دنیا میں باعث فخر ہے،سردار محمد یوسف

وفاق المدارس نے کامیاب امتحانات کا انعقاد کرکے تاریخی کام انجام دیا ،ایک زمانہ تھا جب حافظ قرآن ڈھونڈنا مشکل ہوتا تھا مگر اب بڑی تعداد میں حفاظ کرام فارغ ہو رہے ہیں،18ویں ترمیم میں شعبہ تعلیم کی صوبوں کو منتقلی بڑی غلطی تھی ،نظر ثانی کی ضرورت ہے، اس کے بغیر ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کا خواب پورا نہیں ہو سکتا،پہلے مدرسہ ریفارمز کی بات ہوتی تھی اب تعلیم کی بات ہوتی ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور کی پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 20:44

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہاہے کہ سالانہ 73 ہزار سے زائد حفاظ کرام کی تیاری پاکستان کیلئے پوری دنیا میں باعث فخر ہے، وفاق المدارس نے کامیاب امتحانات کا انعقاد کرکے تاریخی کام انجام دیا ،ایک زمانہ تھا جب حافظ قرآن ڈھونڈنا مشکل ہوتا تھا مگر اب بڑی تعداد میں حفاظ کرام فارغ ہو رہے ہیں،18ویں ترمیم میں شعبہ تعلیم کی صوبوں کو منتقلی بڑی غلطی تھی جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، اس کے بغیر ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کا خواب پورا نہیں ہو سکتا،پہلے مدرسہ ریفارمز کی بات ہوتی تھی اب تعلیم کی بات ہوتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر مذہی امور نے وفاق المدارس العربیہ کے زیر انتظام سالانہ امتحانات کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تعلیمی اصلاحات پر علماء سے مذاکرات کررہے ہیں۔ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے بہت سارا کام مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مدرسہ ریفارمز کی بات ہوتی تھی اب تعلیم کی بات ہوتی ۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کے امتحانات کا طریقہ کار قابل رشک ہے، جہاں بوٹی کا تصور بھی نہیں جوکہ خوش آئند ہے۔ مدارس کے طلباء کو دی جانے والی اسناد کی کلیئرنس اور مستند بنانے پر مشاورت مکمل ہوچکی ہے۔ مدارس دینیہ کے لئے علیحدہ امتحانی بورڈ کے قیام پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بجٹ میں مدارس کا حصہ بھی مختص ہونا چاہیے یہ ایک اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ 73 ہزار سے زائد حفاظ کرام کی تیاری پاکستان کیلئے پوری دنیا میں باعث فخر ہے، وفاق المدارس نے کامیاب امتحانات کا انعقاد کرکے تاریخی کام انجام دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب حافظ قرآن ڈھونڈنا مشکل ہوتا تھا مگر اب بڑی تعداد میں حفاظ کرام فارغ ہو رہے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے ذریعہ شعبہ تعلیم صوبوں کو دینا غلط فیصلہ تھا جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کیلئے نظام صلوٰة کیلنڈر اور قانون سازی کیلئے ڈرافٹ علماء کی مشاورت سے تیار کیاگیا ہے ۔ یہ ڈرافٹ علما ء کیخلاف نہیں بلکہ ان کے خلاف ہے جو بے وقت اذان دینے مسجد میں آجائیں تاکہ انہیں روکا جاسکے۔ ڈرافٹ پر مزید مشاورت کے بعد اسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جزا و سزا ہر معاملے پر ہوتی ہے۔

سیکرٹری جنرل وفاق المدارس العربیہ قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ دینی تعلیم کا نصاب پورے ملک میں یکساں ہے۔ 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو تعلیم کا شعبہ تفویض کیاگیا ہے جس پر تحفظات ہیں۔ پاکستانی قوم کو ایک قوم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔ مختلف نصاب تعلیم کے باعث ہی طبقاتی تقسیم کے باعث معاشرہ منتشر ہورہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تنظیمات مدارس پر مشتمل بورڈ تشکیل دیتے ہوئے دینی تعلیم کو باضابطہ تعلیم کا درجہ دیتے ہوئے تسلیم کیا جائے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے 73 ہزار 2700 بچے بچیوں سے سالانہ حفظ قرآن مکمل کیا جن میں 1300 حافظات شامل ہیں۔ 23 ہزار طلباء و طالبات نے علمائ کے امتحانات پاس کئے جن میں 1300 طالبات عالم بنیں۔ وفاق المدارس میں 21 درجوں کے امتحانات ہیں یہ امتحانات مڈل سے شروع ہوکر ایم اے لیول تک ہوتے ہیں، تمام امتحانات ایک ہی وقت میں ہوتے ہیں۔

وفاق المدارس العربیہ عالم اسلام کا سب سے بڑا تعلیمی سیٹ اپ ہے۔ پاکستان میں اس وقت 20 ہزار مدارس و جامعات وفاق المدارس سے متصل ہیں۔ ان مدارس میں 23 لاکھ طلباء و طالبات کو درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم دینی علوم کے ساتھ میٹرک تک عصری تعلیم،، فنی تعلیم بھی دے رہے ہیں۔ وفاق المدارس کے پونے چار لاکھ طلباء و طالبات نے امتحان دیا ہے آج سالانہ امتحانات اختتام پذیر ہورہے ہیں۔

وفاق المدارس العربیہ اور دیگر وفاق المدارس میں فرق زیادہ نہیں ہے۔ وفاق المدارس کے نصاب سے ملک میں کوئی تقسیم پیدا نہیں ہوتی۔ اتحاد تنظیمات مدارس قائم کرکے اتحاد و وحدت کی فضا کو فروغ اور پیغام اتحاد دیا ہے۔ مدارس کے ہدف میں ڈاکٹر،، سائنسدان یا انجینئر پیدا کرنا نہیں البتہ عصری علوم سے واقفیت پیدا کرنا ہے، ہمارا اصل ہدف علماء پیدا کرنا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے اگر وہ ایسے شعبہ جات مرتب کرے تاکہ انجینئرنگ، سائنس کے شعبے میں ترقی کرسکیں۔