نئی تجارتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے اور برآمد کننگان کے مسائل کو تر جیحی بنیادوں پر حل کیا جائے : پیاف

جمعرات اپریل 22:30

نئی تجارتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے اور برآمد کننگان کے مسائل ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کہا ہے کہ برآمدی ہدف کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ نئی تجارتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے اور برآمد کننگان کے مسائل کو تر جیحی بنیادوں پر حل کیا جائے وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لئے برآمدات کا ہدف 35ارب ڈالر مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ اسی صورت ممکن ہے جب برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ برآمدات میں اضافے کے لئے ضروری ہے کہ تمام ریفنڈز ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے۔صنعتوں کے لئے کے بجلی و گیس کے نرخ کو خطے کے دیگر ممالک کے لیول پر لایا جائے۔برآمدی شعبے کو زیادہ مسابقتی بنانے اور ریلیف دینے کے حوالے سے سٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر عمل کیا جائے۔

(جاری ہے)

برآمدات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ درآمدات کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے۔ چیئر مین پیاف عرفان اقبال شیخ نے سینئر وائس چیئرمین تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ گلبرگ آفس میںصنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگی بجلی ،گیس و دیگر عوامل کے باعث برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے جبکہ درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے برآمدات کو فروغ دینے کے لئے بڑھتے ہوئے بتجارتی خسارے، پیداواری لاگت کو کم کرنا ہو گا ۔

انہوںنے کہا کہ نئی تجارتی پالیسی میں برآمدات میں اضافہ کیلئے اربوں روپے مختص کیے جائیں ۔ بار بار کے وعدوں کے باوجود ریفنڈز کی عدم ادائیگی نے برآمدگان کی کمر توڑ دی ہے جس سے ایکسپورٹ سیکٹر متاثر ہورہا ہے ۔اگرریفنڈز کو اسی طرح روکے رکھا گیا تو تجارتی خسارہ سے ملکی معیشت متاثر ہوگی انہوںنے کہا کہ برآمد کنندگا کے سیلز ریفنڈز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کئی سال سے رکے ہوئے دیگر ریفنڈز کی جلد ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایکسپورٹر دلچسپی سے برآمدات میں اضافہ کیلئے کوششیں کرسکیں۔انہوںنے کہا کہ مہنگی بجلی بھی ملکی برآمدات میں کمی کا باعث ہے اس لیے صنعتی مقاصد کیلئے بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے۔