عوام کی عدم دلچسپی کے باعث سندھ گیمز کی افتتاحی تقریب نا کامی کا شکار ہوئی ہے ، سید صفدر حسین شاہ

جمعرات اپریل 23:11

عوام کی عدم دلچسپی کے باعث سندھ گیمز کی افتتاحی تقریب نا کامی کا شکار ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) نیشنل گیمز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر سید صفدر حسین شاہ نے کہا ہے کہ عوام کی عدم دلچسپی کے باعث سندھ گیمز کی افتتاحی تقریب نا کامی کا شکار ہوئی ہے سندھ بھر میں پبلسٹی کے لئے رکھے گئے 2کروڑ روپے کہا گئے سندھ گیمز کی آڑ میں میگا کرپشن ہونے کا انکشاف ہوا ہے یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز سندھ گیمز کے افتتاحی پروگرام کے بعد نیشنل گیمز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اجلاس میں کامران سرفراز ، محمد بلال ، محمد امجد اور دیگر نے شرکت کی اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ گیمز کمیٹی میں اندرون سندھ کو بلکل نظر انداز کیا گیا ہے اور نام و نمود کے شوقین افراد کو کمیٹی میں شامل کرکے سندھ کے بزرگ اور نوجوان کھلاڑیوں کی توہین کی گئی ہے کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود محکمہ کھیل عوام الناس کو نیشنل کوچنگ سینٹر میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کرا سکا جبکہ افسوس کا مقام ہے کہ گزشتہ سندھ گیمز بھی افرا تفری اور بد انتظامی کا شکار ہوئے تھے اور کرپشن منظر عام پر آئی تھی مگر اس سے محکمہ ثقافت نے سبق سیکھنے کے بجائے اس مرتبہ بھی اپنی روش نہیں بدلی اور سندھ گیمز کو صرف کراچی تک محدود کردیا گیا کیونکہ سندھ کے کسی بھی شہر میں سندھ گیمز کے حوالے سے نا تو پبلسٹی کی گئی نہ ہی عوام میں شہور بیدار کیا گیا کراچی میں ایک نام نہاد تاجر جیولر شاپ کی آڑ اور ایک بینک کا نام نہاد ملازم سندھ گیمز کو ہائیجک کرکے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کررہے ہیں دوسری جانب سندھ گیمز کمیٹی میں کسی قابل قدر کھلاڑی کا شامل نہ ہونا اقربا پروری کی بد ترین مثال ہے غیر معروف اور نام نہاد افراد کو سندھ گیمز کمیٹی میں منسٹر ، سیکریٹری ، ڈی جی اور دیگر افسران سے زیادہ اختیار حاصل ہیں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کراچی میں محکمہ کھیل کے افسران کے بجائے صرف 2چار غیر سرکاری افراد کارٹونوں کے لئے کر اپنی اہمیت اجاگر کرتے رہے مگر ان کیساتھ عوام بالکل نہیں تھے جس کا ثبوت ان کے نام نہاد پبلسٹی کے ایونٹ کے فوٹو اور ویڈویو دیکھ کر مل سکتا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ سب سے اہم بات یہ کہ سندھ گیمز میں کئی ایسے کھیلوںکا شامل ہی نہیں کیا گیا جو اندرون سندھ کی ثقافت کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا سندھ حکومت کا محکمہ کھیل بانجھ ہو گیا ہے جو محکمے نے نان پروفیشنلز اور نام و نمود و نمائش کے خواہشمند لوگوں کو کمیٹی میں شامل کیا ہے ایسا اقدام وزیر اعلیٰ ، گورنر اور بد عنوانی کی روک تھام کے قائم اداروں اسپورٹس کلبوں اور وطن عزیز کے خصوصاً سندھ کے ہر دل عزیز پرفیشنلز کھلاڑیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہفتے کے روز حیدرآبادمیں پریس کانفرنس کرکے سندھ گیمز کے حوالے سے ہونے والی بے قاعدگیوں ، اقرباپروری اور میگا کرپشن کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو پھر 25تاریخ سے سندھ بھر کے پریس کلبوں پر محکمہ کھیل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر فوری طورپر نام نہاد ممبران کو سندھ گیمز کمیٹی اور مارکیٹنگ کمیٹی سے نہ ہٹایا گیا تو پھر اختتامی تقریب میں بھر پور احتجاج کیا جائے گا ۔