حیدرآباد میں خواتین کو ہراساں کرنے اور سائبر کرائم میں ملوث تین ملزمان گرفتار

جمعرات اپریل 23:23

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) حیدرآباد پولیس نے خواتین کو ہراساں کرنے اور سائبر کرائم میں ملوث تین ملزمان گرفتار کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ ، موبائل فونز برآمد کر لئے۔ وومین پروٹیکیشن سیل و سائبر کرائم کنٹرول کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے ایس پی سٹی حیدرآباد زاہدہ پروین نے کہا کہ پولیس نے مختلف شکایات پر سندھ یونیورسٹی ، لمس اور اسریٰ سمیت مختلف کالجز کی طالبات اور ورکنگ وومین کو فیس بک ، واٹس ایپ اور موبائل کالز پر ہراساں کرکے انہیں بلیک میل کرنے والے تین افراد کو حراست میں لیکر ان سے لیپ ٹاپ ، موبائل فونز اور دیگر اشیاء برآمد کرلی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سر مد چنہ کو میر پور خاص سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مہروز خان کوٹری اور فراز قریشی کو اے سیکشن لطیف آباد تھانہ کی حد سے موبائل فونز کال کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

سرمد چنہ 8سال سے طالبات کو ہراساں اور بلیک میل کررہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ وومین پروٹیکشن سیل اور حیدرآباد پولیس سائبر کرائم کے خلاف تیزی رفتاری سے کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ نئی قانون سازی کرکے سائبر کرائم کنٹرول کا اختیار سندھ پولیس کو ملنا چاہیئے تاکہ بروقت شکایات کا ازالہ کیا جاسکے انہوں نے کہاکہ خواتین ، ورکنگ وومین اور طالبات کو پریشان کرنے والوں کے خلاگ سخت کاروائی ہو گئی تاہم اس حوالہ سے خواتین کو بھی قانون سے آگاہ ہو نا چاہیئے وومین پروٹیکشن سیل FMریڈیو کے زریعے ایک آگاہی مہم چلائے گی اور سیمینار منعقد کریں گے۔

اس موقع پر اعدا د و شمار بتاتے ہو ئے انہوں نے کہاکہ فروری2017ء سے اپریل2018ء تک وومین پروٹیکشن سیل کو گھریلو تشدد کے حوالہ سی378شکایات موصول ہوئیں 362شکایات کو حل کردیا گیا اور 16شکایات ابھی التواء میں ہیں، خوف و ہراسمنٹ کی کل 99شکایات آئیں 84پر کاروائی ہو ئی اور 15پر ابھی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد رینج کے 9اضلاع میں رواں برس جنوری سی19 اپریل تک کل 66شکایات گھریلو تشدد کے حوالہ سے موصول ہوئیں ہراسمنٹ یا سائبر کرائم کی 24شکایات آئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گھریلو تشدد ، سائبر کرائم میں17ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہیں ان میں حیدرآباد ضلع میں6دادو میں 5مٹیاری میں3ٹنڈو الہیار ایک اور جام شورو ضلع میں 2ایف آئی آر درج کی گئیں۔ انہوں نے خواتین و طالبات کو مشورہ دیا ہے کہ خوف زدہ ہو نے کے بجائے وومین پروٹیکشن سیل میں شکایات درج کرائیں، ان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا -