یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام یتیم ونادار بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے آگاہی کے لیے سیمینار کا انعقاد

جمعہ اپریل 15:45

سرگودھا۔20 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) شعبہ ابلاغیات یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام یتیم ونادار بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے ’’ایس او ایس ویلج‘‘ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔جس کا بنیادی مقصد عوام میں یتیم و مسکین بچوں کی مدد کا جذبہ بیدار کر نا تھا۔سیمینار میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈلاء پروفیسر ڈاکٹر نواز محسود، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایس او ایس ویلج حامد علی، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مدثر علی شاہ،فیکلٹی ممبران بشمول اسسٹنٹ پروفیسر عبدلرحمٰن قیصر، طارق نواز اور طلباء و طالبات شریک ہوئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نواز محسود نے کہا کہ اسلام نے غرباء، مساکین اور یتیم بچوں کی کفالت کرنے ، ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر زور دیا ہے اور یتیم بچوں کی مدد کرنے کا بہت بڑا اجر ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہمیں یتیم بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ حامد علی نے ایس او ایس ویلج کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ1992سے سرگودھا میں یتیم و مسکین بچوں کی تعلیم و تربیت اور رہائش کا بندوبست کر رہا ہے، یہاں غریب اور یتیم بچوں کی ہر لحاظ سے کفالت کی جاتی ہے، ان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنا بوجھ خود اٹھا سکیں ، جبکہ بچیوں کی تعلیم و تربیت کے بعد ان کی شادی کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے، نیز جو ملازمت کرنا چاہیں ان کے لیے ملازمت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اس مد میں ہونے والے اخراجات مخیر حضرات کے تعاون سے ہی پورے ہوتے ہیں۔ہماری یہی خواہش اور کوشش ہے کہ ایس او ایس ویلج کو سرگودھا کے لوگ ہی چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سرگودھا نے ایس او ایس ویلج کے بچوں کی بہتری کے لیے ہمیشہ تعاون کیا جس پر ہم یونیورسٹی انتظامیہ کے شکر گزار ہیں ۔ ڈاکٹر مدثر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنے آپ کو بن ماں باپ پلنے والے بچوں کی جگہ رکھ کر سوچیں تو ہمیں اپنی زندگی بہت تاریک نظر آتی ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ان بچوں کی زندگی میں خوشیوں کی روشنیاں بکھیریں۔

سرگودھا کے شہریوں،مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ ان یتیم بچوں کی معیاری پرورش، تعلیم و تربیت کو یقینی بنانے کے لیے عطیات دیں تاکہ یتیم بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔ ہمیں ایسے تمام اداروں کی مدد کرنا چاہیے جو یتیم و مسکین بچوں کے مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔