بشار الاسد کی مدد کیلئے ایک اور اسلامی ملک میدان میں آگیا، جنگی طیارے شام پہنچ گئے

جمعہ اپریل 18:08

بشار الاسد کی مدد کیلئے ایک اور اسلامی ملک میدان میں آگیا، جنگی طیارے ..
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) حکومتِ عراق نے کہا ہے کہ عراقی لڑاکا طیاروں نے جمعرات کے روز مشرقی شام میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف شدید فضائی کارروائیاں کیں۔صوبہ انبار کی سرحد کے ساتھ تعینات عراقی فوج اور الحشد الشعبی نے شام میں داعش کے اہداف پر راکیٹ فائر کیے۔ لیکن عراق نے پہلی بار کارروائی کرتے ہوئے ہمسایہ ملک کی حدود میں داخل ہو کر فضا سے اہداف کو نشانہ بنایا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق وزیر اعظم حیدر العبادی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ شامی علاقے کے اندر داعش کے دہشت گردوں کے خلاف اس لیے فضائی کارروائی کی گئی چونکہ اِنہی دہشت گردوں کی جانب سے عراقی سرزمین پر حملے کیے جاتے رہے ہیں، جب کہ ہماری بہادر مسلح افواج کے پاس یہ بہتر صلاحیت تھی جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِن ٹھکانوں کا صفایا کرنے کا مشن عمل میں لایا گیا۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ العبادی کے احکامات پر اور حکومتِ شام سے رابطے میں رہتے ہوئے عراقی ایف 16 طیاروں کی مدد سے یہ فضائی کارروائی کی گئی۔عراقی وزارتِ دفاع نے کہا کہ شام میں دریائے فرات کے ساتھ دیر الزور کے جنوب میں واقع حاجین کے قصبے میں داعش کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔وزارت کی جانب سے جاری کی گئی وڈیو فٹیج اور شائع ہونے والی تصاویر میں عراقی جیٹ طیاروں کو پرواز بھرتے ہوئے، اور ایک اور وڈیو میں ایک عمارت پر بم گراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد عراقی مشترکہ آپریشنز کمان نے کی، جس کی خفیہ معلومات امریکی قیادت والے اتحاد نے فراہم کی تھی۔اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ فضائی حملے عراق کے اس عزم کے غماز ہیں جن میں داعش کے دہشت گرد گروپ کے باقی ماندہ عناصر کا خطے سے صفایا کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔