حکومت تعاون کرے تو فارماسوٹیکلز انڈسٹری برآمدات کو بہتر فروغ دے سکتی ہے ،ْشیخ عامر وحید

حکومت فارماسوٹیکل انڈسٹری کی ترقی پر بہتر توجہ دے جس سے معیشت کیلئے متعدد فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے ،ْمحمد نوید ملک ، نثار مرزا

ہفتہ اپریل 15:46

حکومت تعاون کرے تو فارماسوٹیکلز انڈسٹری برآمدات کو بہتر فروغ دے سکتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا کہ اگر حکومت تعاون کرے تو فارماسوٹیکلز انڈسٹری پاکستان کی برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں میں پاکستان کی مجموعی برآمدات میں کمی کے باوجود گذشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کی فارماسوٹیکلز برآمدات میںتقریبا 26فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ ہماری فارماسوٹیکلز برآمدات 2012-13میں 169.6ملین ڈالر سے بڑھ کر 2016-17میں 213ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس انڈسٹری میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت فارماسوٹیکلز انڈسٹری کے اہم مسائل کو جلد حل کرنے کی کوشش کرے اور اس انڈسٹری پر بہتر توجہ دے تو یہ صنعتی شعبہ پاکستان کی برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔

(جاری ہے)

شیخ عامر وحید نے کہا کہ انڈیا سالانہ 16ارب ڈالر سے زائد کی فارماسوٹیکلز برآمدات کر رہا ہے اور 2020تک انڈیا ان برآمدات کو 20ارب ڈالر سالانہ تک لے جانا چاہتا ہے لیکن پاکستان کی فارماسوٹیکلز برآمدات ابھی تک 1ارب ڈالر تک بھی نہیں پہنچ سکیں جس افسوسناک ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری کیلئے مقامی سطح پر خام مال کی عدم دستیابی اس کی ترقی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے کیونکہ یہ انڈسٹری 95فیصد خام مال باہر سے درآمد کرتی ہے لہذا انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک کے اندر فارماسوٹیکل کا خام مال تیار کرنے کیلئے سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات فراہم کرے تاکہ ہمارے ملک میں ادویات کا خام مال تیار کرنے کی نئی صنعتیں لگ سکیں جس سے فارما انڈسٹری بہتر ترقی کرے گی اور برآمدات کو بھی بہتر فروغ ملے گا۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ حکومت فارسوٹیکل کمپنیوں کو کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے پر بھی غور کرے جس سے اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بہتر فروغ ملے گا اور ہماری برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں فارما شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ پر پابندی سرمایہ کاری کی راہ میں اہم رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزانے کہا کہ اگر حکومت کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دے تو پاکستان میں فارسوٹیکل شعبے کی جدید ٹیکنالوجی آئے گی جبکہ اس انڈسٹری کیلئے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے بھی بے شمار مواقع پیدا ہوں گے اور بے روزگاری میں کمی ہو گی۔ لہذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فارماسوٹیکل انڈسٹری کی ترقی پر بہتر توجہ دے جس سے معیشت کیلئے متعدد فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے۔