بلوچستان میں 85فیصد لوگ ووٹ ہی کاسٹ نہیں کرتے ہیں ،جام کمال عالیانی

مسلم لیگ ن کو اس لیئے خیر آباد کہا کہ کسی بھی مشاورت میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا،خطاب

ہفتہ اپریل 21:12

حب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) سابق وفاقی وزیر مملکت جام آف لسبیلہ نواب جام میر کمال خان عالیانی نے کہا کہ ہم نے مسلم لیگ ن کو اس لیئے خیر آباد کہہ کہ کسی بھی مشاورت میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا تھاآئندہ الیکشن اپنے ساتھیوں اور جس پارٹی کا حصہ بنیں گے اس پارٹی کے مشاورت سے حصہ لونگا بلوچستان میں 85فیصد لوگ ووٹ ہی کاسٹ نہیں کرتے ہیں پھر وہی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ مسائل حل نہیں ہوتے بلوچستان ایک پسماندہ علاقہ ہے اور لسبیلہ یونیورسٹی میں دور دراز علاقوں کے بچے زیر تعلیم ہیں جن میں لیپ ٹاپ کی تقسیم ایک خوش آئند اقدام ہے اور وہ طلباء وطالبات ان لیپ ٹاپ سے بہتر انداز میں مستفید ہوسکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز لسبیلہ یونیورسٹی میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی لیپ ٹاپ اسکیم کے دوران لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور مزید پانچ سال کے بعد بڑی تبدیلی آئیگی آج سے بیس سال قبل دور کچھ اور تھا بلوچستان کے لوگ 70فیصد اپنا کردار ادا کریں جو یقینا مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے لسبیلہ یونیورسٹی بلوچستان کے عوام کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے اور اس سے ہر ایک کو مستفید ہونا چاہیے وائس چانسلر لسبیلہ یونیورسٹی اس یونیورسٹی میں ایک بڑے سیمینار کا اہتمام کریں جس میں بلوچستان کے سیاستدان ،پروفیسر ،طلباء وطالبات سمیت تمام طبقہ فکر کے لوگوں کو مدعو کیا جائے تاکہ مزید شعور آگاہی میں اضافہ ہوسکیںانہوں نے کہا کہ اس مقام پر پہلے ٹیکسٹائل فیکٹری تھی جو کسی وجہ سے بند ہوگئی اور آج اس مقام پر ایک یونیورسٹی موجود ہے اور اس یونیورسٹی سے نہ صرف ضلع لسبیلہ بلکہ بلوچستان بھر کے لوگ مستفید ہورہے ہیں اور اس یونیورسٹی میں جتنے بھی وائس چانسلر آئے سب نے بہتری کیلئے اپنا رول ادا کیا کسی بھی معاشرے میں تعلیم کا معیار بہتر ہوگا تو یقینا ایک روشن مستقبل ہے اور جو طلباء یہاں اپنے چار وپانچ سال پڑھائی پر لگاتے ہیں وہ چار یا پانچ سال مستقبل میں کار آمد ثابت ہوتے ہیں اور ہمیں آج اگر ان چار یا پانچ سالوں کا احساس نہیں ہے تو کل ضرور احساس ہوگا کہ چار یا پانچ سال ہمارے لیئے کتنے اہم دن تھے انہوں نے کہا کہ طلباء وطالبات اچھی معیاری تعلیم پر توجہ دیں فضول میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اساتذہ سے کچھ نہ کچھ سیکھیںجو وقت پر کام آئیگا انہوں نے کہا کہ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور اس محنت کے پھل سے پورا معاشرہ مستفید ہوتا ہے تو اپنی محنت کو ہمیشہ جاری رکھیں کامیابی ضرور ملے گی اس جدید دور میں لیپ ٹاپ ایک ایسی سہولت ہے جو اچھے طریقے کے استعمال سے اچھائی کی طرف گامزن کرتا ہے آج کے اس جدید دور میں ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور ایک اچھے تعلیمی یافتہ بن کر معاشرے میں واضح تبدیلی لاسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ووٹ کاسٹینگ بہت ہی کم ہے اور ضلع لسبیلہ میں پھر بھی زیادہ ہے لیکن بلوچستان میں ایسے بھی علاقے ہیں جن میں پانچ سو یا پندرہ سو ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں بلکہ کوئٹہ جیسے علاقے میں بھی صرف چند ہزار ووٹ کاسٹ ہوئے انہوں نے کہا کہ پھر وہی لوگ چیخ پکار کرتے ہیں کہ ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں بلکہ لوگ ووٹ کسی کو بھی دیں مگر انہیں ووٹ ضرور کاسٹ کرنا چاہیے اس موقع پر وائس چانسلر لسبیلہ ڈاکٹر دوست محمد بلوچ ودیگر نے بھی لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کیا اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ طارق جاوید مینگل ،کرنل کامران ،چیف ٹرائبل سردار غلام فاروق شیخ ،چیئرمین اوتھل سردار رسول بخش برہ ،سردار امام بخش مانڈڑہ ،چیئرمین بیلہ انور رونجھو ،،ڈاکٹر تولا رام لاسی ،سیکورٹی آفیسر سعید بلوچ ،پرووائس چانسلر ڈاکٹر غلام جیلانی ،رجسٹرار احمد نواز کھوسہ ،سینئر صحافی قادر بخش رونجھو ،پی آر او وحید گچکی ،سردار رحمت اللہ خاصخیلی ،امیر علی انگاریہ ،وڈیرہ رفیق بندیچہ ،سیف اللہ بندیچہ ،وڈیرہ غلام نبی گنگو ،مصطفی دودا ،نواب دین مری ،کامریڈ ولی جاموٹ ،رشید جاموٹ ،شیرمحمد انگاریہ ،کرشن لال لاسی ،وڈیرہ صوبہ خان مری ،حبیب اللہ مری ،سلیم عزیز انگاریہ ،پیر مجید شاہ ،نواز علی موندرہ ،سلال بلوچ ،صابر شیخ ،ابرار بلوچ ،کیپٹن تابیش ،ڈی ایس پی منور شیخ ،مبشیر عزیز کھوسہ ،حق نواز ودیگر طلباء وطالبات سیاسی وسماجی شخصیات بلدیاتی نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ اس دوران وزیراعلیٰ بلوچستان کی لیپ ٹاپ اسکیم سے 370لیپ ٹاپ طلباء وطالبات میں تقسیم کیئے گئے جن میں انٹر کالج اوتھل ،انٹر کالج وندر ،ڈگری کالج حب ،ڈگری کالج بیلہ اور لسبیلہ یونیورسٹی کے طلباء وطالبات شامل تھے علاوہ ازیں سابق وفاقی وزیر مملکت نواب جام کمال خان عالیانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کی باقی سیاسی پارٹیوں سے مختلف ہے اور پارٹی کا سربراہ کا فیصلہ تمام ساتھیوں کے مشورے سے کیا جائے گا اور میں چاہتا ہوں کہ کسی بھی پارٹی کا سربراہ ہر ایک سال میں تبدیل نہ ہونا چاہیے تاکہ اسے اپنی کارکردگی کا احساس ہو انہوں نے کہا کہ ان چند سالوں میں بلوچستان میں وہ ترقیاتی کام نہیں ہوئے جو ہونے چاہیے تھے بلکہ لگتا ہے کہ یہ پانچ سال صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ضائع کردیئے ہیں انہوں نے ایک سوال کہ جواب میں کہا کہ ہم نے مسلم لیگ ن کو اس لیئے خیر آباد کہہ کہ کسی بھی مشاورت میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا تھا اسی لیئے ہم نے اور باقی ساتھیوں سے مسلم لیگ ن کو خیر آباد کہہ دیا ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن اپنے ساتھیوں اور جس پارٹی کا حصہ بنیں گے اس پارٹی کے مشاورت سے حصہ لونگا ۔