گمشدہ بچیاں میری بیٹیاں ، آئندہ سماعت پر بچیاں پیش نہ کی گئیں تو آ ئی جی سمیت سارے پولیس افسران سیدھے اڈیالہ جیل بھجواؤں گا ،جسٹس شوکت عزیز صدیقی

ایس ایس پی اسلام آباد نجیب الرحمان بگوی عدالت میں پیش، بچیوں کی تلاش میں پیشرفت ہوئی ہے ۔ مزید تین افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ،نجیب الرحمان بگوی

پیر اپریل 15:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دو سال قبل طالبات کے اغواء کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر آئندہ سماعت پر بچیاں پیش نہ کی گئیں تو انسپکٹر جنرل پولیس سمیت سارے پولیس افسران سیدھے اڈیالہ جیل بھجواؤں گا ۔ گمشدہ بچیاں میری بیٹیاں ہیں آج بھی تھانے آکشن ہو رہے ہیں گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے تھانہ کھنہ کے علاقہ ضیا مسجد سے دو سال قبل اغواء کی جانے والی بچیوں کے کیس کی سماعت کی۔

فاضل جج نے جب سماعت سروع کی تو ایس ایس پی اسلام آباد نجیب الرحمان بگوی عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ جمع کروائی ۔ پولیس رپورٹ کے مطابق بچیوں کی تلاش میں پیشرفت ہوئی ہے ۔

(جاری ہے)

مزید تین افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے ۔ حیدر آباد اور آزاد کشمیر میں بھی پولیس کی ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں ۔ مخبر نے بچیوں کے ریڈ لائٹ ایریا میں نظر آنے کی نشاندہی کی ہے جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے ایک سابق آئی جی نے بچیوں کی برآمدگی بارے عدالتی احکامات پر تفتیش کی ۔

کیا طاہر عالم پولیس کے ترجمان ہیں ہم جانتے ہیں کہ موصوف رات گئے کس تکہ شاپ پر کس صحافی کے ساتھ مدہوش ہوتے ہیں۔ ایک سب انسپکٹر ایسا بھی ہے جو آئی جی کے تبادلے کرواتا ہے ۔ آئی جی مذکورہ بالا سب انسپکٹر کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ گمشدہ بچیاں میری بچیاں ہیں ۔ طاہر عالم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے ۔ آئندہ سماعت پر بچیوں کو ہر حال میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت عالیہ اسلام آباد نے مزید سماعت دو مئی تک کے لئے ملتوی کر دی ۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے تھانہ کھنہ کی حدود سے دو سال قبل اغواء ہونے والی لڑکیوں کے والد اشرف نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا میں تاجر ہوں ۔ 90 ہزار روپے ماہانہ اپنے ملازموں کو دیتا ہوں پولیس کہتی ہے میں نے بچیاں فروخت کر دیں ۔ میری بچیاں دو منٹ میں مل جائیں گی اگر مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر مظفر ، ایس ایچ او تھانہ کھنہ انسپکٹر ستار شاہ ، ڈی ایس پی عبدالرزاق کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیجا جائے تاہم یہ عدالت کو بتایا جائے کہ دو ماہ بعد مقدمہ کیوں درج کیا گیا ۔

الزام عائد کرتے ہوئے متاثرہ باپ کا کہنا تھا کہ پولیس کے پہلے چھتہ پر نامزد ملزم نے بتایا کہ وہ سامان کے ساتھ بچیوں کو افغانستان چھوڑ کر آیا ہے بعدازاں میں پولیس کی منتیں کیں جتنے پیسے چاہئیں میں دینے کو تیار ہوں لیکن پولیس نے ایک نہ سنی ۔ مذکورہ بالا افسران نے ملزم اور اس کے سرپرست بااثر سیاسی شخصیات کی نوٹوں کی چمک دیکھ کر میری آنکھوں میں دھول جھونکنا شروع کر دی ۔ ۔