سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت ،

آئی جی مشتاق سکھیرا آئندہ سماعت پر طلب

پیر اپریل 17:09

سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت ،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بھائی وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر وزرا اور حکومتی عہدیداروں کو طلب نہ کرنے کے معاملے پر وہ تمام ثبوت مانگ لیے ہیں جن کی بنیاد پر ان کو طلب کرنا ضروری تھا،عدالت نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

(جاری ہے)

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی،عوامی تحریک نیانسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے نواز شریف شہباز شریف سمیت بارہ حکومتی شخصیات کو استغاثہ میں طلب نہ کرنے کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کر رکھا ہے،عدالتی حکم پر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی ہے،عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے وکیل سے استفسار کیا کہ سیاست دانوں کے خلاف ایسا کیا مواد تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نظر انداز کر کے ان کو طلب نہیں کیا،ادارہ منہاج القرآن کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے آگاہ کیا کہ اس وقت وہ مواد ہمارے پاس نہیں تھا لیکن اب حلات تبدیل ہو گئے ہیں جس پر بنچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ نئے شواہد کا جائزہ کس طرح لیا جا سکتاہے،فل بنچ نے عوامی تحریک کے وکیل کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے جانے والی دستاویزات پچیس اپریل تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونیکی ہدائت کر دی، سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ میں دہشت گردی عدالت کی جانب سے اپنی طلبی کے نوٹس کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔