قائمہ کمیٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس:

پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے پیش کردہ ترمیمی بل 2017ء مسترد

پیر اپریل 18:35

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس گزشتہ روزچیئرمین طارق بشیر چیمہ کی سربراہی میں منعقد ہوا،کمیٹی نے پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے پیش کردہ ترمیمی بل 2017ء مسترد کر دیا۔اجلاس میں ایم این اے علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ پاکستان میں چیزیں کیسے پاس ہوتی ہیں،آپ عوام کو جوابدے ہیں کہ کونسی چیز خالص ہے اور کونسی نہیں،جتنا آپکے ڈیپارٹمنٹ کا قصور ہے اتنا ہی ہمارا قصور ہے،مغرب میں تو کسی کی ہمت نہیں ہوتی اجزا میں تبدیلی کرنے کی جبکہ چیئرمین طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے پاس بھی کچھ نہیں ہے۔

جس پر علی محمد خان نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کی جان بچانے کے لئے وفاق نے کبھی ہاتھ نہیں باندھے،ہمارایہاں جو چونسا جوس ملتا ہے اس میں کونسا آم ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

منسٹری آف لاء کے نمائندہ جام اسلم نے کہا کہ بل کے تکنیکی معاملات سمجھنے کے لئے ہمیں 1937ء کا لاء پڑھنا ہو گا۔اس موقع پر سیکریٹری منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ ہم کھلے دودھ کے سٹینڈرڈ کو نہیں دیکھتے ہیں،ہم بس کمپنی کی بنائی اشیاء کا سٹینڈرڈ دیکھتے ہیں، نئے ترمیمی بل میں ہم نے مجرمان کے لئے جرمانہ بڑھا دیا تھا۔

ایم این اے عالیہ کامران نے کہا کہ کیا آپکے ادارے نے کسی کے خلاف کوئی کاروائی کی ،جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم اصل بات یہ جاننا چاہتے ہے کہ آپ نے کتنے پلانٹ کو بلیک لسٹ کیاہے۔نمائندہ پی ایس کیو سی اے نے کہا کہ میں نے گزشتہ 6 ماہ میں 30پانی کے یونٹ اسلام آباد میں بند کئے ہیں،جس پر علی محمد خان نے کہا کہ جتنا پانی ہم پیتے کیا وہ سب سٹینڈرڈ کے مطابق ہی ۔

ایم این اے ساجد احمد نے کہا کہ پانی کے علاوہ یہ بھی بتائیں کیا اس بوتل کا سٹینڈرڈ بھی ٹھیک ہے ۔عالیہ کامران نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ بل اگلی حکومت بھی پاس کرے گی،کیا ممکن ہے کہ ہر چیز کے اوپر بار کوڈ بنایا جائے جس کا معیار ہم موبائل سے چیک کر سکیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں دو نمبر چیزیں بک رہی ہیں تو ہم نے وقت ہی ضائع کیا ہے ۔

ایم این اے شاہجہان منیر نے کمیٹی کو بتایا کہ اشیا کے اوپر جو اجزا کے جو نام لکھے ہوتے ہیں وہ مائیکرو سکوپ سے بھی نہیں پڑھے جاتے،جس پر پی ایس کیو سی اے کے نمائندے نے کہا کہ ہم آئندہ پالیسی میں اس بات کا خیال رکھیں گے۔منسٹری آف لاء کے نمائندہ نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ قانون کے مطابق جو چیزیں بل میں دی گئی ہیں وہ مناسب نہیں۔کمیٹی میں پی سی آر ڈبلیو آر کے ملازمین کو ریگولر کرنے پہ بنائی گئی ذیلی کمیٹی کے سربراہ علی محمد خان سے رپورٹ بھی طلب کی گئی جبکہ علی محمد خان نے اس حوالے سے کہا کہ ہماری تحقیقات کے مطابق آپ ان ملازمین کو ریگولر کر سکتے ہیں،اگر انکو ریلیف کورٹ نے ہی دینا ہے تو بہتر ہے کہ ہم ہی انکو ریلیف دیں،منسٹری آف سائنس انیڈ ٹیکنالالوجی سے گزارش ہے کہ کمیٹی کی سفارشات پہ معاونت کرے۔

جس پر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ میں قانون کے تناظر دیکھتے ہوئے ہی ان سفارشات کا جواب دے سکتی ہوں۔چیئرمین کمیٹی طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اگر قوانین آپکو اجازت دیتے ہیں تو ان سفارشات پہ غور کریں،جن ملازمین کے مسائل ہیں وہ کسی زمانے میں آپکا حصہ رہے ہیں۔اس موقع پر علی محمد خان نے کہا کہ ہم عوامی آدمی ہیں عوام کے حق میں ہی فیصلے کرتے ہیں،آپ بیوروکریٹک معاملات کو چھوڑیں۔

ایم این اے عالیہ کامران نے چیئرمین سے استفسار کیا کہ آپ ذیلی کمیٹی کی سفارشات کو قبول کریں،جس پر چیئرمین کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرلیا۔کمیٹی میں منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے گزشتہ سال کے ترقیاتی فنڈ میں 1.5بلین سرنڈر کیا ہے ۔جس پر کمیٹی نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ترقیاتی فنڈ سرنڈر ہونے پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔