قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی مذہبی امور نے نجی حج کمپنیوں کی جانچ پڑتال کرنے وا لی آڈٹ فرم پر اعتراض کر دیا

معاملات کی چھان بین کیلئے کیس ایف آئی اے کے سپرد ،وفاقی وزیر مذہبی امور کو مجاملہ ویزے میں اپنا موقف بیان کرنے کا آخری موقع ، معالے میں شفافیت ثابت نہ کر سکے تو معاملہ ایف آئی اے کو بھیج دیں گے ،سب کمیٹی کی سفارشات منظوری سے قبل مسترد کئے جانے پر ارکان قومی آہنگی کمیشن پر برہم ہوگئے، ماڈل مدارس وزارت تعلیم کو دینے کی سفارش کردی

پیر اپریل 20:05

اسلام اآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے نجی حج کمپنیوں کی جانچ پڑتال کرنے وا لی آڈٹ فرم پر اعتراض کر دیامعاملات کی چھان بین کے لئے کیس ایف آئی اے کے سپرد کردیاگیاوفاقی وزیر مذہبی امور کو مجاملہ ویزے میں اپنا موقف بیان کرنے کا آخری موقع ، معالے میں شفافیت ثابت نہ کر سکے تو معاملہ ایف آئی اے کو بھیج دیں گے ۔

سب کمیٹی کی سفارشات منظوری سے قبل مسترد کئے جانے پر ارکان قومی آہنگی کمیشن پر برہم ہوگئے، ماڈل مدارس وزارت تعلیم کو دینے کی بھی سفارش کردی تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرپرسن شگفتہ جمانی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاس میں ہوا-اجلاس میں اقلیتی اراکین کی جانب سے اپنے بھگوان کی تصاویر پر انسان کی تضحیک آمیز لگانے پر احتجاج کیارکن کمیٹی اقلیتی رکن لال چند ملہی نے کہاکہ سوشل میڈیا پر بھگوان کی توہین آمیز تصاویر لگانا ہمارے مذہب کی توہین ہے بتایا جائے قومی کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی نے کیا ایکشن لیا ہے رکن کمیٹی رمیش لال نے کہا کہ ہم نے مسئلہ حل کرنے کے لئے اجلاس میں آئے ورنہ کمیٹی کا بائیکاٹ کرتے ہیںقومی کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی کوئی کام نہیں کررہا سال میں ایک دو سال ہوتے ہیں جس پر اراکین کمیٹی نے وزارت مذہبی امور نے الگ سے قومی کمیشن برائے اقلیتی امور کے قیام کی سفارش کردی ، اجلاس میں اقلیتی اراکین کمیٹی نے گوالمنڈی راولپنڈی میں سوامی نارائن مندر کا معاملہ اجلاس میں اٹھایا جس سیکرٹری متروکہ املاک بورڈ نے بتایا کہ وہ جگہ شکنتلہ اور بابو لال کی 1947 سے ذاتی جائیداد تھی کچھ کمروں میں عبادت ہوتی تھی اس جگہ پر باضابطہ مندر کبھی بھی نہیں تھا شکنتلہ اور بابو لال مسلمان ہوگئے انہوں نے اپنی جائیداد کرائے پر اظہر بٹ کو دے دی جس رکن کمیٹی لال چند ملہی کا موقف تھا کہ ہماری معلومات کے مطابق 1992میں جب بابری مسجد پر حملہ ہوا اس مندر پر بھی حملہ ہوا لال چند ملہی شکنتلہ اور بابو لال گھیرے میں آگئے مندر کا گنبد گرادیا گیاحالات کو دیکھتے ہوئے شکنتلہ مسلمان ہوکر شکیلہ بن گئی جس چیئرمین کمیٹی نے شگفتہ جمانی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی اٹھائیس اپریل کو راولپنڈی کے مبینہ مندر یا گھر کی جگہ کا معائنہ کرے گی جو بھی حقیقت ہوگی اس پر عمل ہوگا انہوں نے کہاکہ قومی کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی جہاں جہاں اقلیتی عبادت گاہوں کے مسائل ہیں حل کرے وزیر مملکت پیر امین الحسنات اقلیتی عبادت گاہوں کے تنازعات حل کرائیں وزیرمملکت پیر امین الحسنات نے کہاکہ حکومت کا وقت پورا ہونے والا ہے شائد یہ کام پورا نہ ہوسکے ۔

(جاری ہے)

قائمہ کمیٹی نے حکومت سے کہاکہ حکومت جلدازجلد چیئرمین متروکہ وقف املاک کا تقرر کرے دوران اجلاس متروکہ وقف املاک بورڈ نے بتایا کہ کٹاس راج تالاب خشکی پر سیمنٹ فیکٹریوں کو این او سی پنجاب ماحولیاتی ادارہ نے جاری کیاجس پر شگفتہ جمانی کا کہنا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس پر مزید بات نہ کی جائے، حج ایڈوائزری کمیٹی جلد از جلد بنانے کے چیئرپرسن کے مطالبے پر مذہبی امور حکام کا کہنا تھا کہ ایڈوائزری کمیٹی بن بھی جائے تو اسمبلیوں کی مدت کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی، دوران اجلاس حکام کا نجی کمپنیوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ نجی حج کمپنیوں کو معیار کے کوٹہ بارے اسلام آباد ہائی کورٹ نے انتیس اپریل کی تاریخ دی ہے، پندرہ مئی تک نجی حج کمپنیوں کی فہرست فائنل کردیں گے جس پر شگفتہ جمانی نے اعتراض کیاکہ کئی کمپنیوں نے شکایات کی ہیں کہ ان کی خدمات پرانی ہیں مگر ان کو نمبرز کم دیئے جارہے ہیں،جس پر حکام کا کہنا تھا سات سو نئی اور چوالیس پرانی کمپنیوں کو حج کوٹہ کی دوڑ سے نکال دیا گیا ہے، جن کمپنیوں کی شکایات ہوں گی وہ شکایات کمیٹی میں اپنا کیس ثابت کر گئیں تو انہیں نمبرز وزارت دے سکتی ہے دوران اجلاس چیئرپرسن نے انکشاف کیا کہ وزارت مذہبی امور میں حج کمپنیوں کو نمبرز دینے کے لئے کوڈ ورڈز استعمال کئے جارہے ہیں، جس کمپنی کو نمبرز دینا ہوتے ہیں اس پر ایچ لکھا جاتا ہے، جس کو نمبرز نہیں دینا ہوتے اس پر ایم لکھا جاتا ہے، رکن کمیٹی غفار ڈوگر نے چیئرپرسن کے ریمارکس پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے پاس ایچ اور ایم استعمال کرنے کے کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائے جائیں اور معاملے کو ایف آئی اے کے سپرد کیا جائیرکن کمیٹی پیر عمران بخاری نے کہاکہ وزارت مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سندھ کے ایک حج آپریٹرز کی تنظیم کے صدر کے کاغذات تاریخ گزرنے کے بعد فائل میں جمع کرائے گئے تاریخ گزرنے کے بعد کوئی نیا کاغذ جمع نہیں کرایا جاسکتا میںسیکرٹری مذہبی امور میں چیلنج کرتا ہوں کہ بتائیں میں وزارت کی فائل میں کاغذات جمع کراکے دکھا دوں گا جس کے پاس پیسے ہیں اس کے لئے سب کچھ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ بتایا جائے آخر ایک ہی کمپنی آر ایس ایم کو ہی سارا کام حوالے کیوں کردیا گیا چیئرمین کمیٹی نے حج کمپنیوں کو کوٹہ کے لئے نمبرز دینے کیطریقہ کاراور شفافیت کا جائزہ لینے کے لئے معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے حکومت سے کہا ہے کہ حج قرعہ اندازی جلد از جلد کی جائے لوگوں میں ایک بے چینی بڑھتی جارہی ہے ایچ جی اوز کے حوالے تحفظات کمیٹی بنائی گئی لیکن اگر ڈاکومنٹس نہیں دیکھنے تو پھر اس کا فایدہ کیا ہے کمیٹی نے چارٹر اکانٹنٹ کمپنی کا جائزہ لینے کے احکامات ایف آئی اے کو دیدیئے جو کمپنی پرانی اور نئی ایچ جی اوز، حج کوٹہ کا جائزہ لے رہی ہے اس کو بھی دیکھا جانا چاہیئے۔

دوران اجلاس قومی کمیشن برائے اقلیتی امور نے سب کمیٹی کی سفارشات مسترد کئے جانے کے معاملے پر سب کمیٹی کے کنوینئر علی محمد خان برس پڑے اور کہاکہ قومی کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی کیا جی ایچ کیو سے ہدایات لیتی ہے یا وہ ٹرپل ون بریگیڈ ہے، قومی کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی نے بغاوت کی ہے وہ ایسا کرکیسے سکتی ہے جس پر دیگر کمیٹی ارکان نے بھی انکی حمایت کرتے ہوئے قومی کمیشن ہم آہنگی کی طرف سے سفارشات کو مسترد کئے جانے کے فیصلے کو مسترد کردیا، مجاملہ ویزوں کے معاملے پر چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ اگر وزارت کا مجاملہ ویزوں سے کوئی تعلق نہیں تو پھر وزارت نے یہ سب کاغذات مجھے کیسے دیئے، مجاملہ ویزوں کی فائل میں جعلی نام ڈالے گئے ، خدام الحجاج کو مجاملہ ویزہ دیئے گئے جن سے دولاکھ اسی ہزارروپے لئے گئے چند ارکان نے کہاکہ کیس ایف آئی اے کو بھیج دیا جائے جس پر وزارت حکام کا کہنا تھا کہ ایک ایک سٹکر ویزہ کی تفصیلات دے سکتے ہیں، چارسو پچہتر مجاملہ ویزہ مجاملوں کا عمل ہمارے سیکشن میں ہوا تھا کوئی پیسہ نہیں لیا گیا، بعد ازاں ارکان نے سردار یوسف کو معاملے پر اگلے اجلاس تک صفائی کا موقع دیدیا دوران اجلاس ماڈل مدارس پر وزیر مملکت پیر امین الحسنات کا کہنا تھا کہ ان تین ماڈل مدارس کی کوئی ضرورت نہیں، سیکرٹری مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ان ماڈل مدارس کو وزارت تعلیم کے حوالے کر دیا جائے۔