محکمہ زراعت کا کپاس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کر نے کے لیے کاشتکاروں کو تمام ممکن سہولیات کی فراہمی کا اعلان

منگل اپریل 15:20

فیصل آباد۔24 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) محکمہ زراعت نے رواں سال کپاس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کر نے کے لیے کاشتکاروں کو تمام ممکن سہولیات کی فراہمی کا اعلان کیا ہے،افسران گائوں گائوں جا کر کپاس کے کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی اور کپاس کی مختلف بیماریوں سمیت کیڑے مکوڑوں کے حملوں کے خلاف زبر دست قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کے بارے میں روشناسی فراہم کر رہے ہیں تاکہ کپاس کی کاشت اور پیداوار کیلئے مقرر کردہ اہداف کا حصول یقینی ہو سکے۔

ترجمان نے کہا کہ کپاس کی فصل کو بوائی سے چنائی تک خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ذرا سی بھی غفلت فصل کو نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتی ہے۔انہوںنے کہا کہ کاشتکار 30 اپریل تک کاشتہ فصل میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9 سے 12انچ جبکہ یکم مئی سے 15مئی تک کاشتہ فصل میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6 سے 9 انچ رکھیں اور کھیلیوں سے کھیلیوں کا فاصلہ اڑھائی فٹ ہونا چاہیے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کپاس کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کیلئے حکومت پنجاب نے ٹھوس اقدامات کیے ہیں تاہم کپاس کے کاشتکار محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کرکے بہترین نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ کاشتکار محکمہ زراعت کی طرف سے فراہم کردہ مفت سہولیات سے بھر پور فائدہ اٹھائیں اور کپاس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے دن رات ایک کردیں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ زراعت کی فراہم کردہ سہولتوں کے ساتھ جب کسان محنت اور لگن سے کام کرے گا توکوئی وجہ نہیں کہ وہ ہدف حاصل نہ کرسکے۔

انہوںنے کہاکہ کسان نے گندم کی ریکارڈ پیداوار فراہم کی ہے اور امید ہے کہ وہ کپاس کی بھی ریکارڈ پیداوار حاصل کرے گا ۔ انہوںنے کہاکہ کپاس ہماری سب سے نقد آور فصل ہے اس لئے اسے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوںنے کہا کہ کپاس کا پودا گرمی کو پسند اور سردی کو نا پسند کرتا ہے لہٰذا گندم کی کٹائی کے بعد کپاس کی بی ٹی اقسا م کا انتخا ب مو زوں علاقے، دستیاب وسائل، مقا می معلوما ت اور پچھلے سا لو ں کے تجربات کی روشنی میںکیا جائے۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار چھدرائی کرتے وقت کمزور اور بیمار پودوں کو ضرور نکالیں۔انہوںنے کہا کہ مزید معلومات یا رہنمائی کیلئے محکمہ زراعت کے سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔