اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ آصف نااہلی کیس کا فیصلہ سنا دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات اپریل 14:38

اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ آصف نااہلی کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 اپریل 2018ء) ::اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت نا اہل قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کی نا اہلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سنایا۔لارجر بنچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق شامل ہیں۔

خواجہ آصف نا اہلی کیس کا فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا ۔ فیصلے کے مطابق ن لیگ کے سینئییر رہنما خواجہ آصف صادق اور امین نہیں رہے۔ عدالت نے خواجہ آصف کو تاحیات نا اہل قرار دے دیا۔ فیصلہ سنانے کے بعد ہی کمرہ عدالت گو نواز گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔

(جاری ہے)

خواجہ آصف این اے 110 سیالکوٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر عدلیہ کو سلام پیش کیا اور کہا کہ اس فیصلے پر سیالکوٹ کی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں خواجہ آصف کی نا اہلی پر اپنے لیڈر عمران خان کا شکرگزار ہوں ، اگر وہ میرے ساتھ نہ ہو تے تو میں کبھی نہ کر سکتا۔ جہانگیر ترین نے بھی اس کیس میں میری بہت رہنمائی کی۔

عدلیہ نے عوام کو آج گاڈ فادر سے نجات دلوا دی ہے۔ میں نے خواجہ آصف سے پہلے ہی کہا تھاکہ میں عمران خان کا سپاہی ہوں اور میں کبھی نہیں جھُکوں گا۔ آج پاکستان کی سیاست میں خواجہ آصف کی کوئی جگہ نہیں ہے میں خواجہ آصف کو مشورہ دیتا ہوں کہ جا کر شوکت خانم کے باہر فروٹ کی ریڑھی لگاؤ، اس پر تمہیں حلال کی کمائی بھی ملے گی اور تمہیں مریضوں کی دعائیں بھی ملیں گی۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے بیرون ملک ملازمت اور اقامہ رکھنے پر خواجہ آصف کی اہلیت کو اسلا م آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ درخواستگزار کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے اپنی تنخواہ، اثاثے، غیر ملکی بنک اکائونٹس کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیے اور غلط بیانی کی ، خواجہ آصف کو اثاثے ظاہرنہ کرنے اور صادق اور امین نہ ہونے پر نا اہل قرار دیا جائے۔

جس کے بعد کیس میں تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر لارجر بنچ نے کیس کا فیصلہ10اپریل کو محفوظ کیا تھا۔عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگر کیس میں کچھ تحریری چیزیں جمع کروانا چاہتے ہیں تو کروادیں۔جس پر خواجہ آصف کے وکیل نے انٹرنیشنل میکینکل اینڈ الیکٹریکل کمپنی کا خط لارجر بنچ کو جمع کروایا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے مؤکل جس کمپنی کے لیگل ایڈوائزر ہیں اس کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوکر بیان دینے کے لیے تیار ہے۔خط میں کہا گیا تھا کہ خواجہ آصف کمپنی کے فُل ٹائم نہیں بلکہ پارٹ ٹائم ملازم ہیں۔