خواجہ آصف کی نا اہلی کا فیصلہ پہلی بار نہیں آیا ہمارے دور میں یوسف گیلانی کو بھی نااہل کیاگیا لیکن ہم نے اسے تسلیم کیا ،

ہم نے کبھی عوام کو مشتعل نہیں کیا ،آپ ایم این اے یا سینیٹر ہیں اور اقامہ لے رہے ہیں یہ سیاستدان کو زیب نہیں دیتا کسی دوسرے ملک کا ورک پرمٹ لے کرایک وفاقی وزیر یا وزیراعظم رکھے گا سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شیری رحمان کی پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو

جمعرات اپریل 23:29

خواجہ آصف کی نا اہلی کا فیصلہ پہلی بار نہیں آیا ہمارے دور میں یوسف گیلانی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) قائد حزب اختلاف سینیٹ شیری رحمان نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کی نا اہلی کا فیصلہ پہلی بار نہیں آیا ہمارے دور میں یوسف گیلانی کو بھی نااہل کیاگیا لیکن ہم نے اسے تسلیم کیا وہ کی پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگوکر رہی تھیں ۔ شیری رحمان نے کہاکہ عدالتوں کے فیصلے پی پی کے خلاف آئے لیکن ہم نے اسے پھر بھی تسلیم کیا ہم نے کبھی عوام کو مشتعل نہیں کیا آپ ایم این اے یا سینیٹر ہیں اور اقامہ لے رہے ہیں یہ سیاستدان کو زیب نہیں دیتا کسی دوسرے ملک کا ورک پرمٹ لے کرایک وفاقی وزیر یا وزیراعظم رکھے گا یہ کوئی کسی کی ذات کی بات نہیں ملک کے امیج کی بات ہوتی ہیانہوں نے کہاکہ عدالتی فیصلے پر اوپر سے سینہ زوری ہورہی ہے جو کہ افسوس ناک ہے پارلیمان کے فیصلے پارلیمان میں ہونے چاہیے لیکن ن لیگ نے اس وقت ایک بھی نہیں سنی ہم ترلے کرتے رہے کہ آپ یہاں بحث ومباحثہ کریں لیکن انہوں نے اس ایوان کو بے توقیر کیا ہے۔

(جاری ہے)

ووٹ کا تقدس مکا دکھانے کے لیے نہیں ہوتا ایوان میں آنے سے ہوتاہے، موجودہ وزیراعظم صرف چار ماہ میں آئے، نواز شریف نے بھی ایوان میں آنا گوارہ نہ کیا اکثر ممالک میں وزیراعظم کے بعد وزیر خارجہ اہم عہدہ ہے خواجہ آصف کو چاہیے کہ وہ جرات اور ملکی وقار کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فی الفور مستعفی ہوں ،،ن لیگ مسلسل ملکی تشخص کو دا وپر لگا ررہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ سینیٹ میں بجٹ بارے اپوزیشن کی تمام پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت ہوگی جس حکومت کا صرف ایک ماہ ہے اسے کوئی حق نہیں کہ پورے سال کا بجٹ پیش کرے آئین میں چار ماہ کی اجازت دی گئی ہے، ن لیگ کو اختیار نہیں کہ پورے سال کا بجٹ پیش کرے چیئرمین پی پی پہلے ہی کہہ چکے کہ چار ماہ کا بجٹ قبل از انتخابات دھاندلی ہے 800 سو کھرب کی بدعنوانیاں موجودہ دور میں ہوئی، خود آڈیٹر جنرل نے اس کا انکشاف کیا ہے ن لیگ نے ملک کو قرضوں میں جکڑ دیا ہے اور اوپر سے ووٹ کو تقدس دو کا نعرہ بھی لگا رہے ہیں ہم تنقید برائے تنقید کے قائل نہیں ہیں