محکمہ اطلاعات سندھ کریشن کیس

شریک ملزم مسعود ہاشمی نے خرد برد کئے گئے 75 ملین واپس کرنے کی حامی بھر لی

جمعرات اپریل 23:54

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) عدالت عالیہ سندھ میں محکمہ اطلاعات سندھ کریشن کیس میں شرجیل میمن ودیگرملزمان کی درخواست کی ضمانت سے متعلق سماعت پر عدالت میں ملزم عاصم انورخان سکندر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میرا موکل بیگناہ ہے بد نیتی کی بنا پر ملوث کیا گیا جبکہ مسعود ہاشمی کے وکیل محمود عالم نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل مسعود ہاشمی پر 75 ملین خردبرد کا الزام عائد کیا جا رہا ہے مسعود ہاشمی 75ملین رقم واپس کرنے کو تیارہے میرے موکل نے کسی قسم کی کریشن نہیں کی عدالت کا کہنا تھا کہ اگر مالی بے ضابطگی بنیک اکاونٹ کے ذریعے ثابت ہو تو ملزم کیسے بری الذمہ ہوسکتے ہیں عدالت میں شرجیل انعام میمن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شرجیل میمن نے میڈیکل گراونڈ پر ضمانت کے لیے درخواست دائرکررکھی ہے کمرکی شدید تکلیف میں مبتلا ہیں میڈیکل بورڈ نے بیرون ملک علاج تجویز کیا ہے سینٹرل جیل میں مطلوبہ طبعی سہولیات دستیاب نہیںمیرے موکل کو مستقل فزیوتھراپی کی ضرورت ہے جیل حکام سے پوچھا جائے کہ جیل میں کون سی طبی سہولیات دستیاب ہیں عدالت نے وکیل صفائی کا موقف سنتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ شرجیل میمن کو کون سی طبعی سہولیات کی ضرورت ہے اور جیل میں کون سی سہولیات موجود ہیں عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کونوٹس جاری کرتے ہوئے وکیل صفائی کو آیندہ سماعت پردلائل دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت دو مئی تک ملتوئی کردی۔

#