آئندہ مالی سال کیلئے قومی معیشت کی شرح نمو کا ہدف 6.2فیصد مقرر

رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی شرح ترقی میں سب سے زیادہ 5.8 فیصد اضافہ ہوا بارہویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت آبی وسائل کے شعبہ کیلئے 42.636 ارب روپے مختص

جمعہ اپریل 18:03

آئندہ مالی سال کیلئے قومی معیشت کی شرح نمو کا ہدف 6.2فیصد مقرر
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) آئندہ مالی سال کیلئے قومی معیشت کی شرح نمو کا ہدف 6.2فیصد مقررکیا گیا ہے جبکہ زراعت کے شعبہ کی شرح ترقی 3.8فیصد، انڈسٹری کے شعبہ کیلئی7.6فیصد اور خدمات کے شعبہ کیلئے شرح نمو کا ہدف 6.5فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات کی جانب سے جاری کی گئی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2018-19ء کے مطابق رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی شرح ترقی میں 5.8فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو گذشتہ13سال کے دوران سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 16.4 فیصد تک پہنچ گئی اور قومی بچتوں کی شرح جی ڈی پی کے 12.1فیصد کے مساوی ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق قومی معیشت کی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کیلئے 2043ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں 339 ارب روپے کی غیرملکی امداد کا عنصر بھی شامل ہے۔

(جاری ہے)

آئندہ مالی سال کیلئے وفاق کے زیراہتمام پی ایس ڈی پی پر1030ارب روپے جبکہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 1013ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پی ایس ڈی پی میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جن کیلئے 400 ارب روپے جبکہ توانائی کے شعبہ کیلئے 237 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کیلئے 135 ارب ، اعلیٰ تعلیم کیلئے 57 ارب ، وزیراعظم یوتھ پروگرام کیلئی10ارب ، سکیورٹی کی صورتحال کی بہتری اور عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کیلئے 90 ارب روپے اورگیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے 5ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اورفاٹا کیلئے 62ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔

اے ڈی پی 2018-19ء کے مطابق 1998ء سے لے کر2017ء کے دوران قومی آبادی میں2.4 فیصد کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت قومی معیشت کی ترقی کیلئے سماجی شعبے بالخصوص تعلیم ، صحت ، روزگار کی فراہمی ، ہنر مند افرادی قوت کیلئے تربیتی پروگرامز، غربت کے خاتمے سمیت صنفی تضاد کے خاتمہ اور نوجوان طبقہ کی فلاح وبہبود کیلئے خصوصی توجہ دے رہی ہے جس کے تحت آئندہ مالی سال کے دوران سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قومی ورثہ اورمیڈیا کی ترقی کیلئے آئندہ مالی سال کے دوران 815ملین روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت مالیات کے شعبے اور سرمائے کی منڈی کی ترقی کیلئے آئندہ مالی سال کے دوران مالیاتی خسارے کو کم کرنے کیلئے جامع اقدامات متعارف کرائے گی ۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران جی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی 469.2 ارب روپے تک بڑھ گئی جبکہ جولائی تا مارچ2017-18کے دوران صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریے (سی پی آئی) میں اوسطاً3.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے سی پی آئی میں اضافے کی شرح 6 فیصد کے قریب رہنے کی توقع ہے۔

مالیات کے شعبہ کی ترقی سے سرمائے کی مارکیٹ کی کارکردگی بھی اطمینان بخش رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران برآمدات میں 13.1فیصد جبکہ درآمدات میں 11.5فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والے ترسیلات زر3.4فیصد جبکہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی شرح میں12.5فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اے ڈی پی کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا حجم 21.2فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے اورحسابات جاریہ کاخسارہ جی ڈی پی کے 4 فیصد کے مساوی رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں عوام الناس کی سماجی اور معاشی ترقی کیلئے رواں مالی سال کے دوران 61.5ارب روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ عارضی طور پربے گھر افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کیلئے اضافی 90ارب روپے بھی فراہم کئے گئے۔

حکومت فاٹا کی سماجی اور معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کیلئے مختص کردہ بجٹ کا 42 فیصد حصہ فاٹا کیلئے رکھا گیا ہے جبکہ آزاد کشمیرکا حصہ 34 فیصد اور گلگت بلتستان کا حصہ 23فیصد ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران وژن 2025 ء کے تحت مختلف وزارتوں ، ڈویژنوں اور محکموں میں پائیدار شہری اورعلاقائی ترقی اور سمارٹ سٹی منصوبوں سمیت فزیکل پلاننگ اور ہائوسنگ کے شعبہ کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ گورننس کی بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات کیلئے آئندہ مالی سال کے دوران مختلف منصوبے مکمل کئے جائیں گے ۔

حکومت توانائی کے شعبہ کی ترقی پرخصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ توانائی کی قلت کے مسئلہ پر قابو پا کر قومی معیشت کی ترقی کے اہداف حاصل کئے جاسکیں اور آئندہ مالی سال کے دوران قومی گرڈ میں 6735 میگاواٹ اضافی بجلی شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ایل این جی کی درآمد کے ذریعہ ایک ارب کیوبک فٹ گیس یومیہ دستیاب ہوگی جبکہ بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اے ڈی پی 2018-19ء کے مطابق نیشنل واٹر پالیسی 2018ء اور وژن2025ء ، بارہویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت آبی وسائل کے شعبہ کیلئے آئندہ مالی سال کے دوران 42.636 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے آبپاشی کیلئے 134.5 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوگا۔ اسی طرح زراعت اور غذائی تحفظ کیلئے آئندہ مالی سال کے دوران زرعی شعبہ کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقررکیا گیا ہے۔

موسمیاتی اورماحولیاتی تبدیلیوں سے قومی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے تدارک کیلئے جنگلات کی شعبہ کی بحالی کیلئے 100ملین نئے پودے لگانے کا ہدف مقررکیا گیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران جنگلات کے شعبہ کی بحالی اور ترقی کیلئے 3.652ارب روپے اور جنگلی حیات کے شعبہ کیلئے 738.9ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت ہائیر ایجوکیشن کے شعبہ کے زیر انتظام ایک ہزار سے زائد پی ایچ ڈی سکالرز کیلئے 25.5 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف منصوبوں کیلئے 2503 ملین روپے جبکہ انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سمیت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔