ْغیر ترقیاتی کاموں اور تنخواہوں و پنشنز کیلئے بجٹ پیش کرنا بہت ضروری تھا ،میاں افتخارحسین

ہفتہ اپریل 23:14

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ غیر ترقیاتی کاموں اور تنخواہوں و پنشنز کیلئے بجٹ پیش کرنا بہت ضروری تھا ۔ ان خیالات کا اظہار انہون نے بٹ خیلہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، دیر لوئر کے صدر حسین شاہ یوسفزئی ،عنایت خان اور ملاکنڈ کے جنرل سیکرٹری اعجاز علی خان بھی ان کے ہمراہ تھے، قبل ازیں میاں افتخار حسین چکدرہ میں ظاہر شاہ اوچ مرحوم کی وفات پر فاتحہ خوانی کیلئے پہنچے۔

انہوں نے مرحوم ظاہر شاہ کی پارٹی کیلئے گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ظاہر شاہ اوچ جیسی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں اور ان کی وفات اے این پی کیلئے بڑا نقصان ہے، بٹ خیلہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ آخری ماہ میں بجٹ پیش کرنے سے وہ متنازعہ توہو گیا ہے البتہ یہ غریب ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز کے نقطہ نگاہ سے درست فیصلہ تھا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ترقیاتی منصوبوں پر جو پابندی لگائی ہے سیاسی جماعتیں اس کا ادراک کریں اور ان منصوبوں کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ پری پول رگنگ روکنے کے حوالے سے مناسب فیصلہ ہے ،ہمارے دور میں یہ پابندی بہت پہلے لگا دی گئی تھی ۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومتیں اپنی مدت پوری کر چکی ہیں اور اب یہ فیصلہ عوام کو کرنے کا حق ہے کہ کس نے کتنی کارکردگی دکھائی ۔

سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں وفد نے چینی سفیر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں چین کے سفیر نے مغربی اکنامک کوریڈور کے حوالے سے یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مغربی روٹ ضرور تعمیر ہو گا۔میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ مغربی اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل روح کے مطابق تعمیر کیا جائے، اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم ایک انقلاب تھا جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور 18ویں ترمیم کی بدولت ملک مضبوط ہواتاہم انہوںنے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی کسی کوشش کومستردکردیا۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں چل سکتا ، انتخابات کا مقررہ وقت پر آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کا مسئلہ ہمارے لئے زندگی اور موت سے بھی بڑھ کرہے ،ملک کے تمام صوبے اس کی مخالفت کر چکے ہیں اور اسمبلیوں سے اس کی مخالفت میں قرار دادیں پاس کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان ببانگ دہل اعلان کر چکے ہیں کہ اگر اس مسئلے کو دوبارہ چھیڑا گیا تو اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی ۔