ایس ایچ او ڈجکوٹ تشدد کیس میں ملوث وکلاء کے گھروں پر پولیس کے چھاپے‘ چادر‘ چار دیواری کا تقدس پامال‘ فیصل آباد بار سراپا احتجاج

اتوار اپریل 19:20

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) ایس ایچ او ڈجکوٹ تشدد کیس میں ملوث وکلاء کے گھروں پر پولیس کے چھاپے‘ چادر‘ چار دیواری کا تقدس پامال‘ فیصل آباد بار سراپا احتجاج‘ پولیس حکام کے خلاف لائحہ عمل طے کرنے کے لئے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان‘ گزشتہ روز ایس ایچ او ڈجکوٹ ملک وارث کی ایڈیشنل سیشن جج خضر حیات کی عدالت کے بعد وکلاء سے جھڑپ ہو گئی‘ بعض وکلاء نے ایس ایچ او ملک وارث کو تشدد کا نشانہ بنایا اور چوکی انچارج روشن والا رانا نواز کی ور دی پھاڑ دی ‘ موقع پر موجود سینئر وکلاء نے معاملہ رفع دفع کروادیا اور دونوں فریقین کی صلاح بھی کروا دی تاہم رات گئے ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کی مداخلت پر تھانہ سول لائن میں متاثرہ ایس ایچ او ملک وارث کی مدعیت میں ملک ارشد ایڈووکیٹ سمیت 10نامزد وکلاء اور پچیس نامعلوم افراد کے خلاف 7ATA‘382‘353‘186‘114‘148‘149 کا مقدمہ درج کر لیا گیا پولیس نے مقدمے میں ملوث وکلاء کی گرفتاری کیلئے ان کے گھروں پر چھاپے مارے اور چادر ‘ چار دیواری کا تقدس پامال کیا جس پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سراپا احتجاج بن گئی‘ وکلاء نے پولیس کے خلاف میدان میں آنے کے لئے آج پریس کانفرنس طلب کر لی جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔