چین بھارت کیساتھ بڑھتے ہوئے مراسم کے باوجود پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، تجزیاتی رپورٹ

چین قومی نشاةثانیہ کا تاریخی مشن شروع کرنے کیلئے پاکستانی بھائیوں کیساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے شی ۔مودی غیر رسمی سربراہی اجلاس سے کئی روز قبل چینی وزیرخارجہ کی پاکستانی وزیر خارجہ کو یقین دہانی کا اعادہ

اتوار اپریل 20:10

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) چین کے صدر شی جن پھنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے درمیان غیر رسمی سربراہی اجلاس سے کئی روز قبل چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ ژی نے بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء دفاع و خارجہ کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف سے ملاقات کی،وانگ رپورٹوں کو یہ بتانے کیلئے اجلاس سے باہر آئے کہ چین قومی خوشحالی و ترقی کے عظیم خواب کے حصول اور قومی نشاةثانیہ کا تاریخی مشن شروع کرنے کے لیے اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ملک جل کر کام کرنے پر تیار ہے چین کی مرکزی کابینہ کے رکن اور وزیر خارجہ نے کہا کہ اس طریقے سے پاکستان کے ساتھ ہماری آہنی دوستی کو کبھی زنگ نہیں لگے گا اور نہ ہی فولاد میں ٹیمپر ہو گی،خواجہ آصف نے ملتے جلتے بیان میں چین کو’’اپنا آہنی بھائی‘‘قرار دیا،یہ بات جریدہ سائوتھ چائنہ مارننگ پورسٹ(ایس سی ایم پی)میں شائع شدہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے،چونکہ پاکستان اور چین نے گلگت بلتستان میں جو کہ کشمیر کہلاتا ہے جس کا بھارت بھی دعویدار ہے میں اپنی مشترکہ سرحد کی حیثیت کے بارے میں اپنے اختلافات حل کرنے کے لیے 1963معاہدے پر دستخط کئے ہیں،دوطرفہ دوستی کی ان کی حد سے زیادہ تعریف کو زیادہ تر اقدامات سے دیکھا جاتا ہے شی کے 46بلین امریکی ڈالر لاگت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری(((سی پیک))جو اب 60بلین امریکی ڈالر کا ہو چکا ہے کو 2015میں اپنے پسندیدہ بیلٹ و روڈ منصوبے کے شوکیس پراجیکٹ کے طور پر اعلان کرنے کے بعد چینی رہنماء نے اسے 1971میں اپنی بین الاقوامی تنہائی کے خاتمے اور امریکہ کے ساتھ کمیونسٹ چین کے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں مدد دینے میں پاکستان کے اہم کردار کا شکریہ ادا کرنے کے مترادف قرار دیا اور اگرچہ سیاسی و جغفرافی وجوہ کی بنا پر پاکستان اتنا زیادہ نہیں کہہ سکتا تاہم اسے 1989اور 1992کے درمیان جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے بھارت کے دفاعی پروگرام کے ساتھ اسے اپنی رفتار برقرار رکھنے پر چین کو شکریہ کہنا پڑا،،چین کے بیلٹ و رود نوعیت کے ایشیاء پر توسیع کے حصے امریکہ،،،بھارت اور جاپان کے ساتھ براہ راست مقابلے میں لانے کے پیش نظر دونوں انتہائی قریب آ گئے ہیں جبکہ امریکہ جو کہ پاکستان کا دوسرا اہم بین الاقوامی پارٹینر ہے اس کے تعلقات میں نمایاں تنزلی آئی ہے،باور کیا جاتا ہے کہ وانگ نے آصف کو دوبارہ یقین دہانی کرائی ہے کہ شی۔

(جاری ہے)

مودی سربراہی اجلاس سے ہونے والی کوئی پیش رفت پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات اور کوئی سودا بازی نہیں کی جائیگی،تاہم وانگ کے زنگ اور فولاد بم بلاسٹ کے بعد اسی روز اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے نائب سربراہ مشن لائی جیان چوئو ڈیلی ٹائمز میں ایک اداریے کے بعض حصے کو ٹویٹ کیا اور کہا بیجنگ اسلام آباد سے کہتا رہا ہے کہ وہ نئی دہلی سے مذاکرات کرے اور کشیدگی کو کم از کم کرے،،چین اور بھارت دیتانت کے دور میں ہو سکتے ہیں لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ چین پاکستان اور چین کی شراکت داری میں گہرے اعتماد کو انڈر کٹ کرنا چاہے گا،خاص طور پر بیلٹ و روڈ منصوبے میں اسلام آباد کے اہم کردار کی صورت میں بھارتی پریس رپورٹ سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ بیجنگ اور نئی دہلی کشمیر کے پاکستان کے زیر انتظام نصف حصے میں واقع بیلٹ و روڈ منصوبے کی بھارتی مخالفت کے کسی غیر ممکنہ سمجھوتے کے حل پر خاموشی سے غورو خوص کرتے رہے ہیں،