یومِ مئی محنت کشوں کا عالمی تہواردُنیا بھر کے محنت کشوں کو حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کا پیغام دیتا ہے، لیا قت ساہی

پیر اپریل 18:48

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) مزدور رہنما لیا قت علی ساہی نے اسٹیٹ بینک کی سی بی اے یونین کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ مئی محنت کشوں کا عالمی تہوار پر دُنیا بھر کے محنت کش شکاگو کے محنت کشوں اور مزدور رہنماؤں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کے طاقتور طبقوں کو مجبور کیا کہ محنت کشوں کے ڈیوٹی کے اوقات کار،، تنخواہوں کی ادائیگی ، انجمن سازی اور ہیلتھ اور سیفٹی جیسے قوانین مرتب کئے جائیں جس کی واضح مثال ہے کہ ریاست پاکستان نے ملک کے دستور میں آرٹیکل 17 میں تمام شہریوں کو گرانٹی فراہم کی ہے کہ ہر شہری کو انجمن سازی کا حق حاصل ہے ، اسی طرح آرٹیکل3 میں ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ اور اسکی بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا، آرٹیکل 25 میں ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی حقدار ہیں ، آرٹیکل38 کے تحت ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ عام آدمی کے معیار زندگی کو بُلند کرکے دولت اور وسائل پیداوار تقسیم کو چند اشخصاص کے ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کے اس مفاد عامہ کو نقصان پہنچے اور آجر و ایمپلائرز اور زمیندار و مزارع کے درمیان حقوق کی مُنصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلالحاظ جنس ذات مذہب یا نسل عوام کی فلاح و بہبود کے حصول کی کوشش کریگی۔

(جاری ہے)

یومِ مئی کے تناظر میں آئی ایل او کنویشن کو حکومت پاکستان نے تسلیم کرتے ہوئے دستخط کئے ہیں ان پر عمل درآمد کیا جائے گایومِ مئی کے فلسفے کو بنیادی طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں ایک روائتی طور پر محنت کشوں کا تہوار ہے جسے ایک چھٹی تصور کیا جا تا ہے لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ 1886 ء سے قبل سرمایہ دار طبقہ محنت کش طبقے کو اپنا ذاتی ملازم تصور کرکے کس طرح ظلم کرتا تھا جس کے خلاف محنت کشوں طبقے کو جدوجہد کرنی پڑی۔

اُس وقت محنت کشوں کا صبح ڈیوٹی پر آنے کا تو وقت ہوتا تھا لیکن جانے کا وقت سیٹھ کی منشاء پر ہوتا تھا بلکہ تاریخ کے اوراق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ صبح سورج کی کرنوں سے پہلے اور رات ستاروں کی روشنی میں محنت کشوں کی گھر واپسی ہوتی تھی اس کٹھن اور مشکل حالات میں اگر کسی کے بچے کو بیماری کی صورت میں دوائی کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ سسک سسک کر اپنی ایڑھیاں رگڑرگڑ کر داد فریا د کرتا تھا لیکن اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے میں ناکام رہتے تھے، سیٹھ کو صرف اپنے سرمائے میں اضافہ اولین ترجیح ہوتی تھی، کام کے دوران سرمایہ دار اپنے گماشتوں کے ذریعے محنت کشوں کی عزت نفس کو پاؤں تلے روند کر سیٹھ کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتا تھا اگر کوئی شخص اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرتا تھا تو اُس کی عزت نفس کو نہ صرف مجروح کیا جاتا تھا بلکہ روزگار سے بھی فارغ کر دیا جاتا تھا ان نا انصافیوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے مزدور رہنما ؤں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے محنت کشوں کو آواز دی ہے آج بھی 1886 ء سے بد تر حالات ہیں حقوق کے حصول کیلئے متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی اور گندے نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔

متعلقہ عنوان :