سندھ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے چودہ رکنی وفد کا پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر کا دورہ

منگل مئی 21:31

لاہور۔یکم مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے چودہ رکنی وفد نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر کا دورہ کیا ۔اس دورہ کا مقصد پنجاب میں ہوئے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینا ہے۔ صحافیوں نے ہسپتال کی زیر تکمیل بلڈنگ کا معائنہ کیا اور ہسپتال کے دیگر شعبوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ہسپتال کے شعبہ نیفرالوجی کے چیئرمین اور ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر حافظ اعجاز احمد نے معزز مہمانوں کو ہسپتال کے قیام کے اغراض و مقاصد اور پہلے مرحلے کے افتتاح کے بعد ہونے والی تبدیلیوں اور تعمیرات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پراجیکٹ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے اس ویژن کی عکاسی کرتا ہے جو وہ صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے کی ترقی اور عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے رکھتے ہیں- انہوں نے مزید کہا کہ پہلے فیز کا افتتاح وزیراعلی محمد شہباز شریف نے 25دسمبر2017کو کیا تھاجبکہ ہسپتال کے دوسرے مرحلے کی تکمیل چند ماہ بعد متوقع ہے۔

(جاری ہے)

یہ ہسپتال 800بیڈز پر مشتمل ہوگا، جس میں 100بیڈز کا ایمرجنسی سینٹر، 100بیڈز کا آئی سی یو، 100بیڈ کا آؤٹ پیشنٹ ڈائلیسز اور 500بیڈز کا اِن پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ ہوگا۔ اس کے علاوہ 20آپریشن رومز اور 10فوری نوعیت کے آپریشن رومز ہونگے۔ اس وقت ہسپتال میں مریضوں کیلئے آؤٹ پیشنٹ کی سہولیات میسر ہیں، جس کے ساتھ لیبارٹری، فارمیسی اور معمولی سرجریاں کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ ہسپتال کی بلڈنگ انٹرنیشنل جے سی آئی اے سٹینڈرڈز کے مطابق تعمیر کی جارہی ہے جس کے لئے وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے اربوں روپے کے فنڈز فراہم کئے ہیں اور 60ایکڑ پر مشتمل اس ہسپتال میں بہترین طبی مشینری اور آلات میسر ہونگے، آپریشن کیلئے روبوٹک سرجری کا استعمال کیا جائے گااور یہ تمام سہولیات بلا تفریق تمام پاکستانیوں کو میسر ہونگی۔

ہسپتال میں غریب مریضوں کا علاج مفت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کی خاص بات بیرون ملک مقیم طبی ماہرین کی اپنے ملک کی خدمت کیلئے آمد ہے ۔ اب تک 70سے زائد ماہرین ہسپتال آنے کامعاہدہ کرچکے ہیں جن میں سے چالیس سے زائد آؤٹ پیشنٹ میں مریضوں کا علاج معالجہ کررہے ہیں۔ یہ ماہرین ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں اور وہ بیرون ملک بھاری تنخواہیں چھوڑ کر آئے ہیں۔

ہسپتال میں جلد گردے اور جگر کی پیوندکاری شروع ہوجائے گی۔ اس طرح یہ سہولت نہ صرف غریب عوام کو میسر ہوگی بلکہ دیگر مریض بھی بیرون ملک علاج کیلئے جانے کی بجائے ملک میں ہی عالمی نوعیت کی سہولیات سے مستفید ہوسکیں گے۔اس کے علاوہ ہسپتال میں ایک یونیورسٹی کا آغاز کیا جارہا ہے جہاں پر نرسنگ سٹاف، پیرا میڈیکل سٹاف کو جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ اس یونیورسٹی میں ڈاکٹروں کو اعلیٰ تعلیم بھی دی جائے گی تاکہ ملک میں اعضاء کی پیوندکاری اور دیگر اہم شعبوں میںطبی ماہرین پیدا کئے جائیں۔ ہسپتال میں تحقیق کا ادارہ قائم کیا جارہا ہے، جہاں جدید بنیادوں پر طبی تحقیق کی جائے گی۔ ڈاکٹر حافظ اعجاز نے بتایا کہ ہمارا مشن ہے کہ یہ ادارہ پاکستان کا آکسفورڈ اور ہارورڈ بنے گا۔آخر میں ہیڈ آف مارکیٹنگ التمش پرویز نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ صحافیوں نے ہسپتال کے دورہ کو مثبت قرار دیا اور ہسپتال کے علاج معالجہ کی سہولیات اور طبی ماہرین کے کام کو نہایت سراہتے ہوئے ہسپتال کیلئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔