سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

بدھ مئی 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعاکی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قراردیا جائے ۔

(جاری ہے)

بد ھ کو منیراے ملک کی وساطت سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں ملکی اور یو اے ای قوانین کو مدنظر نہیں رکھا گیا، ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے رویے کو بھی سامنے رکھنا ہوتا ہے، جس نے عدالت سے حقائق چھپائے ہیں،خواجہ آصف نے مزیدکہا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں 6.8ملین روپے کی بیرونی آمد ن کو ظاہر کیا، بیرون ملک کی ظاہر کردہ آمدن میں تنخواہ بھی شامل تھی، ہائیکورٹ نے قیاس آرائیوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے ،میرے خلاف رٹ پٹیشن 2017ء میں دائر ہوئی حالانکہ میں نے 2015 ء میں اپنا اقامہ ظاہر کیا تھا، جب میں نے ازخود اکائونٹ ظاہر کیا تھا ،خواجہ آصف کاکہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں بیرون ملک کا بینک اکائونٹ غیر اداری طور پر ظاہر نہ کر سکا،بینک اکائونٹ میں کاغذات نامزدگی کے ڈیکلیئرڈ اثاثوں کی 0.5فیصد رقم تھی، استدعا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردیئے جائیں۔