کوئٹہ،قبائلی علاقوں میں احساس محرومی کم کرنے کا واحد حل فاٹا کوخیبرپشتونخوا میں ضم

کرنے میں ہے ،عوامی نیشنل پارٹی عوا م ملا ملٹری الائنس کے دھوکے میں مزید نہیں آئے گئی ، حالات نے ثابت کیا ان کی جدوجہد اسلام نہیںا سلام آبا د کے لئے تھی ،اصغرخان اچکزئی صوبے میں قومی برابری کا نعرہ لگانے والوں کے چہروں سے بھی نقاب الٹ چکا ، صوبائی صدر

جمعرات مئی 23:51

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے فاٹا کو خیبرپشتونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں جو احساس محرومی پایا جاتا ہے اس سمیت درپیش تمام مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ فاٹا کوخیبرپشتونخوا میں ضم کیا جائے ،عوا م ملا ملٹری الائنس کے دھوکے میں مزید نہیں آئیں گے وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ دین مبین کے نام پر ان کی جدوجہد اسلام کے لئے نہیں بلکہ اسلام آبا د کے لئے تھی ان کی طرح صوبے میں قومی برابری کا نعرہ لگانے والوں کے چہروں سے بھی نقاب الٹ چکا ہے پشتونوں کی قومی برابری کے نام پر ان کی جدوجہد ذات ، خاندان اور مخصوص گروہ کے لئے تھی جس کا اعتراف آج ان کے اپنے لوگ بھی کررہے ہیں نظریاتی اور قومی حقائق سے باخبر سیاسی کارکنوں کو عوامی نیشنل پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں اور اس امید کااظہار کرتے ہیں کہ وہ باچاخانی فکر و فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے قوم اور وطن کی خدمت کریں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ، ضلعی صدر اسدخان اچکزئی ، گل باران افغان ، محمدصادق صدا، گل محمد ملیزئی، عبدالمالک ملیزئی،سیفل اکا ملیزئی،محمد عمر اکا ملیزئی،عبدالرزاق ، عبدالظاہر و دیگر نے چمن کے علاقے حلقہ ٹھیکیدار محمد حسن کلی حاجی محمد صدیق ملیزئی میں منعقدہ شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر گل محمد ملیزئی، عبدالمالک ملیزئی اور سیفل اکا ملیزئی کی قیادت میں50افراد نے اپنے خاندانوں سمیت پشتونخوا میپ جبکہ حافظ دولت خان، عبدالسلام، عطا اللہ اور سمیع اللہ کی قیادت میں20افراد نے اپنے خاندانوں سمیت جے یوآئی سے مستعفی ہو کر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ اے این پی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی و دیگر رہنماں نے نئے شامل ہونے والے سیاسی کارکنوں کو خوش آمد ید کہتے ہوئے کہا کہ پشتو، پشتون اور پشتونخوا کے حقوق کے حصول کے لئے عوامی نیشنل پارٹی ہی واحد پلیٹ فارم ہے جہاں زئی اور خیلی سے بالا تر ہو کر جدید دنیا سے ہم آہنگ اور پرامن جمہوری جدوجہد کی جارہی ہے قومی اور وطنی بقا اسی میں ہے کہ ہر پشتون فخرا فغان باچاخان کے قافلے میں شامل ہو کر اپنے آنے والے روشن مستقبل کے لئے جدوجہد کرے عوامی نیشنل پارٹی پشتونوں کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے جس نے مشکل سے مشکل دور میں بھی حق اورانصاف کا راستہ نہیں چھوڑا بلکہ ہمیشہ حق اور انصاف کا ساتھ دیا اس کی پاداش میں پارٹی قائدین نے قید و بند سے لے کر جلا وطنی اور جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا ہم نے ہمیشہ وقت کے حاکموں کو خبردار کیا کہ پشتونوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں ان کے تمام آئینی ، جمہوری ، قانونی اور انسانی حقوق دیئے جائیں پارٹی کی پرامن سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لئے جہاں ایک طرف پشتونوں کے اندر سے ایسے لوگوں کو سپورٹ کیا گیا جنہوں دین مبین اسلام کے نام پر پشتونوں کوورغلایا وہاں پشتونوں کو پشتواور پشتونولی کے نام پر بھی دھوکہ دیا جاتا رہا اور ایسے ایسے لوگوں کو آگے لایا گیا جن کا بظاہر نعرہ پشتون قومی برابری تھا مگر دراصل ان کی منزل یہی تھی کہ اپنی ذات اور اپنے خاندانوں ا ور اپنے مخصوص گروہ کو مراعات دی جائیں چالیس سالوں سے پشتونوں کا خون بہایا جاتارہا اور اس جنگ کو اسلام کا مقدس نام دیا گیا مگر آج وقت اور حالات نے ثابت کردیا کہ دین مبین کے نام پر ان کی جدوجہد اسلام کے لئے نہیں بلکہ اسلام آبا د کے لئے تھی اب ایک بار پھر ملا ملٹری الائنس فعال ہوچکا ہے عوام اس کے دھوکے میں مزید نہیں آئیں گے کیونکہ عوام نے ان کی حقیقت پہچان لی ہے اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے صوبے میں قومی برابری کا نعرہ لگایا اقتدار ملتے ہی ان کے غبارے سے ہوا نکل گئی چند وزارتیں اور گورنر ی لے کر انہوں نے سب کچھ بھلادیا حالانکہ ان کے پرکشش نعروں میں آکر مخلص سیاسی کارکنوں نے جان و مال اور قیمتی وقت کی قربانی دی یہ مخلص سیاسی کارکن ایک ایک کرکے ان کا سا تھ چھوڑ رہے ہیں ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے اس امید کااظہار کرتے ہیں کہ وہ باچاخانی فکر و فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے قوم اور وطن کی خدمت کریں گے انہوں نے کہا کہ اس وقت پشتون جن مسائل کا شکار ہیں ان مسائل کے حل کے لئے دوٹوک عملی اقدامات ضروری ہیں قبائلی علاقے عرصہ دراز سے نظر انداز رہے ہیں وہاں کے لوگوں میں بہت زیادہ احساس محرومی پایاجاتا ہے جس کا حل یہی ہے کہ فاٹا کو خیبرپشتونخوا میں ضم کرکے فاٹا کے عوام کو وہ تمام سہولیات اور توجہ دی جائے جو ملک کے باقی حصوں کو حاصل ہے اے این پی کے رہنماں نے کہا کہ افغان بارڈر پر پھیلے ہوئے علاقوں میں روزگار کے مواقع بالکل نہیں ان علاقوں میں روزگار کا واحد ذریعہ تجارت ہے ہم نے پہلے بھی بار بار یہ مطالبہ کیا ہے آج بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ پرامن تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دیا جائے پرامن اور مستحکم افغانستان کے بغیر ہمارا پورا خطہ ڈسٹرب رہے گا اس لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مثالی تعلقات کو فروغ دیں روزگار اور تجارت کے مواقع پیدا کریں اورگوادر کی بدولت اس پورے خطے میں جو معاشی سرگرمیاں شروع ہونے والی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے لئے ضروری ہے کہ امن و استحکام یقینی بنایا جائے ۔

دریں اثنا اے این پی کے صوبائی بیان میں پارٹی ضلع لسبیلہ کے صدر پر حملے اور ان سے گاڑی چھیننے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملوث افراد کی گرفتاری اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کرے ۔ اے این پی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی ضلع لسبیلہ کے صدر عبدالمنان پر تشدد کیا اور انہیں زخمی کرنے کے بعد ان کی گاڑی چھین کر فرار ہوگئے عبدالمنان افغان پر تشدد اور ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے ضلع لسبیلہ میں پارٹی کی روز بروز فعالیت سے بعض عناصر پریشان ہیں اس طرح کے واقعات امن وامان کے قیام کے حوالے سے حکومت کے دعوں کی بھی نفی کرتے ہیں ۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پارٹی رہنما پر حملے اور ان سے گاڑی چھیننے کا اعلی سطح پر نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ ملوثا فراد کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائے اور آئندہ کے لئے اس طرح کے مذموم واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے ۔