وزارت داخلہ کا قتل اقدام قتل ،بھاری رشوت میں ملوث وفاقی پولیس کے تین افسران کے خلاف نوٹس

آئندہ دو روز ایس پی سپریم کورٹ ذیشان حیدر ،ڈی ایس پی صدر غلام محمد اور ایس ایچ او آبپارہ رشید گجر کو معطل کر کے انکوائری کی جائے گی وزارت کی جانب سے مقتول کے بھائی سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ ضلعی عدالت میں بھی مقتول کے بھائی کا مذکورہ افسران کے خلاف دائر استغاثہ منظور ، سول جج کو دو ہفتوں میں بیانات ریکارڈ کر کے رپورٹ سیشن کورٹ کو بھجوانے کا حکم جاری

جمعرات مئی 23:52

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) قتل اقدام قتل ،بھاری رشوت میں ملوث وفاقی پولیس کے تین افسران کے خلاف وزارت داخلہ نے نوٹس لے لیا ،آئندہ دو روز ایس پی سپریم کورٹ ذیشان حیدر ،ڈی ایس پی صدر غلام محمد اور ایس ایچ او آبپارہ رشید گجر کو معطل کر کے انکوائری کی جائے گی ،،وزارت داخلہ کی جانب سے مقتول کے بھائی سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ جبکہ ضلعی عدالت نے بھی مقتول کے بھائی کا مذکورہ افسران کے خلاف دائر استغاثہ منظور کرتے ہوئے سول جج کو دو ہفتوں میں بیانات ریکارڈ کر کے رپورٹ سیشن کورٹ کو بھجوانے کا حکم جاری کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ کے رہائشی اللہ یار چیمہ نے ضلعی عدالت میں ایس پی سپریم کورٹ ذیشان حیدر ،ڈی ایس پی صدر غلام محمد باقر ،ایس ایچ او رشید ،بھکر سے سابق ایم پی اے نعیم اللہ خان شہانی، سابق چیئرمین نیب چوہدری قمر الزمان اور راولپنڈی سے ایم پی اے ملک فاروق کے قریبی عزیز ملک ثمین اور ملک عمر کے خلاف وزارت داخلہ سمیت اعلی حکام کو درخواستیں دی تھیں جبکہ سیشن کورٹ اسلام آباد میں استغاثہ دائر کیا تھا کہ انہوں نے پلاننگ کر کے اسکے بھائی کلیم نواز چیمہ کو ایف ٹین میں قتل کروا دیا ہے اور مقدمہ کا مدعی بھی پولیس نے مقتول کے بھائی کو بنانے کی بجائے اپنی مرضی سے اپنا چہیتا بنا کر بعد ازاں ڈی ایس پی غلام محمد باقر کے کہنے پر پولیس کی جانب سے بنائے گئے خود ساختہ مدعی نے شٹام کے ذریعے مقدمہ واپس لے لیا ہے ۔

(جاری ہے)

وزارت داخلہ نے وفاقی پولیس کے سینئر افسران کے خلاف نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ آئندہ روز میں مذکورہ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف اعلی سطح کی انکوائری بھی کی جائے گی ۔دوسری طرف ایڈیشنل سیشن جج سہیل شیخ نے سول جج کی جانب سے بھجوایا گیا استغاثہ منظور کرتے ہوئے مزید کاروائی کیلئے سول جج اور علاقہ مجسٹریٹ ملک عمران کو بھجواتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ پندرہ دن میں استغاثہ میں نامزد ملزمان کے بیانات لے کر مدعی کی داد رسی کرنے کیلئے استغاثہ مقررہ وقت میں مکمل کر کے بھجوائیں تاکہ مزید کاروائی آگے بڑھائی جا سکے ۔

آئینی ماہرین کے مطابق مذکورہ پولیس افسران کو سول ججز کی عدالت میں پیشی سے قبل ضمانت قبل از گرفتاری بھی کروانی پڑے گی جس کے بعد ہی ان کا بیان ریکارڈ ہوسکے گا ۔درخواست گزار کے مطابق مکان کا قبضہ دلوانے کیلئے ایس پی ذیشان حیدر نے مقتول کلیم نواز اور ذوہیب سے 66ہزار روپے کا موبائل فون اور پانچ لاکھ روپے جبکہ ڈی ایس پی غلام محمد باقر نے 15 لاکھ روپے خود وصول کئے تھے اور 50 لاکھ روپے کی رقم ملک ثمین اور ملک عامر کو بھی دلوائی تھی کہ وہ یہ رقم کے بعد مکان کا قبضہ مقتول کے حوالے کر دے گا ۔تاہم ایس پی ذیشان حیدر نے اپنے ماتحت ڈی ایس پی اور ایس ایچ او اور سابق ایم پی اے کے ساتھ مل کر رقم بھی ہڑپ کر لی ہے جبکہ ان پولیس افسران نے پلاننگ کر کے کلیم نواز کو قتل بھی کروا دیا ہے۔