ریسکیو 1122فائرسروس نے فائر فائٹرز کا عالمی دن منایا،

نیشنل فائر سیفٹی کوڈز پر عمل درآمد وقت کی اشد ضرورت ہے ‘ڈاکٹر رضوان نصیر گزشتہ گیارہ سال میں 108,358آتشزدگی کے واقعات پر ریسپانڈ کرتے ہوئے 300ارب روپے کے نقصانات کو بچایا ہے‘ڈی جی ریسکیو

جمعہ مئی 16:38

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122))ڈاکٹر رضوان نصیر کی ہدایت کے مطابق پنجاب کے تمام اضلاع میں گزشتہ روز فائٹرز کا عالمی دن منایا گیا اور فائر ریسکیورز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پنجاب بھر میںمختلف آگاہی پروگرام ، فلیگ مارچ، سیمیناراور آگاہی واکس منعقد کی گئیں تاکہ اُن ہیروزفائر ریسکیورز کو جنہوں نے فرائض کی سرانجام دہی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یا زخمی ہوئے ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جاسکے۔

یو ں تو جا ن بچا نے والے ریسکیو ر ز کا ہر پیشہ اور ہر شعبہ اہم اور قا بل ستائش ہے مگر آ ج فا ئر فا ئٹر ز کے عا لمی دن کے مو قع پر ہما را محور وہ عظیم فا ئر فا ئٹر ز ہیں جو جا ن بچا نے کا کام آ گ کے پر خطر شعلو ں میں سر انجا م دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سال 2017کے بہترین لیڈ فائر ریسکیور اوکاڑہ عمار یعقوب اور فائر ریسکیور لاہور امتیاز علی کو بہترین فائر فائٹرز کے کیش ایوارڈ اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا جبکہ ترجمان ریسکیو پنجاب جام سجاد حسین نے ریسکیورز کی قربانیوں کے اعتراف میں اپنی نظم ’’ہم کھڑے ہیں ‘‘پیش کی۔

پنجاب بھر میں تقریبات کے ساتھ ساتھ لاہور میں پی سی ایس آئی آر فیروز پور روڈمیں مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کا کہنا تھا کہ آج کے دن وہ اپنے عظیم فائر فائٹرز کو سلام پیش کرتے ہیں جو انگا روں کو اپنے قدمو ں میں روندتے ہو ئے مو ت کی آ غو ش سے زند گی کو بقا کی طر ف کھینچ لا تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی فائر سروس نے عالمی سطح کا پیشہ وارانہ معیار حاصل کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ آگ سے حفاظت صرف ریسکیو رز کا ہی کام نہیں بلکہ آتشزدگی سے محفوظ معاشرے کی تعمیر میں تما م متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کی بہترین فائر سروس بھی اُس وقت تک اپنا کا م سر انجا م نہیں دے سکتی جب تک کہ کمیونٹی کی سطح پر آگ سے بچانے کے اقدامات نہ کیے جائیں ۔بلند و بالا عما ر تو ں کو آگ سے بچا نے کے لیے نیشنل فائر سیفٹی کوڈز پر عملدارآ مد اشد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیورز ترقی یافتہ معاشروں میں اصل ہیروز مانے جاتے ہیں اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ریسکیو 1122نے بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اہم مقاصد حاصل کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فائر سروس نے اب تک108,358 واقعات پر ریسپانڈ کرتے ہوئے اب تک 300ارب روپے سے زائد کے نقصانات کو بچایا۔ اعدادو شمار کے مطابق فائر سروس نی3869شدید زخمی افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کیا ،2332افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جبکہ 963افراد گزشتہ گیارہ سالوں میں آتشزدگی کے واقعات میں جان کی بازی ہار گئے۔

مزید برآں 44.96فیصد آتشزدگی کے واقعات شارٹ سرکٹنگ، 16.86 فیصد بے احتیاطی،16.67فیصد نامعلوم وجوہات،11.71فیصد دیگر وجوہات،4.86فیصد گیس لیکیج اور دیگر حادثات کچن فائرز، کینڈل فائراور آتش بازی کے سامان کی وجہ سے پیش آئے۔ انہوں نے آتشزدگی کے واقعات میں جان کی قربانی پیش کرنے والے فائر ریسکیورز کے جذبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں ایسے ہیروز کو سلام پیش کرتاہوں جنہوں نے ہم وطنوں کی جان و مال کی حفاظت میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کی۔

انہوں نے کہا اگرچہ شہریوں کی بروقت مد د کے لئے ایک جدید فائر سروس موجود ہے مگر یہ صرف پچاس فیصد ہے، پچاس فیصد فائر حادثات کی روک تھام کیلئے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیربرائے ڈزاسٹر منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ مہر اعجاز احمد اچلانہ نے کہا کہ صدر پاکستان نے نیشنل فائر سیفٹی کوڈز کی منظوری دے کر انتہائی موثر اقدام اٹھایا ہے اور اب حکومت ان کوڈز پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے موثر حکمت عملی اپنارہی ہے۔

انہوں نے ریسکیو سروس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ریسکیو سروس نے اپنی کارکردگی اور پیشہ ورانہ تربیت سے شہریوں میں آتشزدگی کے متعلق احساسِ تحفظ پیدا کیا ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ انہیں فائر ریسکیورز کے درمیان ایسا لگ رہا ہے کہ وہ خود فائر فائٹر ہیں ، انہوں نے کہا کہ فائر ریسکیورز بلاشبہ ہمارے ہیروز ہیں اور زندہ قومیں اپنے ہیروز کو نہیں بھولتیں۔

صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ و زیراعلیٰ پنجاب سے بات کرکے ریسکیورز کے لئے رسک الائونس فوری طور پر نافذ العمل کرانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ معروف اداکار نورالحسن نے کہا کہ فرشتے بھی ریسکیورز پر ناز کرتے ہونگے، انہوں نے کہا کہ وہ ریسکیورز اور فائر فائٹرز کے کردار کو اپنے ڈراموں میں اجاگر کریں گے تاکہ فائر فائٹرز کا وہی مقام پاکستان میں بھی ہو جو ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

نورالحسن نے کہا کہ فائر فائٹرز ہمارے دوست ہیں اور معاشرے میں انسانو ں کی جان و مال کی حفاظت کے ضامن ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق ماہر فائر فائٹر غلام محمد ناز نے کہا کہ فائر ریسکیور ہمیشہ ہی معاشرے میں ہیرو کی طرح مانا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا ہیرو ہوتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ فائر اس کی زندگی لے سکتی ہے مگر وہ ہمت نہیں ہارتا اور لوگوں کی مدد کیلئے جاپہنچتا ہے۔

ایسے انسان سلام کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کھلے دل سے ماننا چاہیے کہ ڈاکٹر رضوان نصیر کی پیشہ ورانہ خدمات کے صلے میں ریسکیو 1122نے فائر فائٹنگ کے شعبہ میں نئی جدت لائی ہے۔ غلام محمد ناز نے کہا کہ ہمیں یہ دن یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھلائیں گے اور جو خدمات انہوں نے سرانجام دی ہیں انہیں یاد رکھیں گے۔