چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پیر تک حکومت سے صحافیوں پر تشدد کے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی

ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی صحافیوں پر تشدد کے واقعہ کی مذمت چینلز کو مختلف علاقوں میں بند کیا جا رہا ہے، خبریں اور آرٹیکلز شائع نہیں کئے جا رہے، آزادی اظہار رائے کے حواے سے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-A کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، ارکان سینیٹ کا دوران بحث اظہار خیال

جمعہ مئی 20:12

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پیر تک حکومت سے صحافیوں پر تشدد کے واقعہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پیر تک حکومت سے صحافیوں پر تشدد کے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی جبکہ ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے صحافیوں پر تشدد کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینلز کو مختلف علاقوں میں بند کیا جا رہا ہے، خبریں اور آرٹیکلز شائع نہیں کئے جا رہے، آزادی اظہار رائے کے حواے سے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-A کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے جو کہا وہ بالکل درست ہے، غیر اعلانیہ سنسر شپ کے خلاف ہمیں جدوجہد کرنی چاہئے۔

جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں صحافیوں پر تشدد کے واقعہ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ آئین اور اداروں کا تحفظ صرف آزادی صحافت سے ممکن ہے، تشدد کی ذمہ داری ابھی تک کسی پر کیوں نہیں ڈالی گئی، کسی کو کام سے روکا گیا ہے تو اس کا نام بتایا جائے۔

(جاری ہے)

پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ فیض آباد میں دھرنا ہو تو وہ ایلیٹ فورس نظر نہیں آتی جو اساتذہ اور صحافیوں کو روک لیتی ہے، یہ درست ہے کہ خبریں اور آرٹیکلز شائع نہیں ہو رہے، ٹی وی چینلز کو مختلف علاقوں میں بند کیا جا رہا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، دوسری خلاف ورزی آرٹیکل 19 اے کی ہو رہی ہے۔ پریس سنسر شپ ہو رہی ہوگی تو آرٹیکل 19-A کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے کالے قوانین کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ بغیر کسی قانون اور آفیشل نوٹیفیکیشن کے دونوں کام ہو رہے ہیں۔ ضیاء دور میں آرڈیننس کے ذریعے سنسر شپ لگائی گئی تھی، آج جو کہا جا رہا ہے اس سے بہتر ہے کہ اخبارات خالی جگہ چھوڑ دیں۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتا ہوں، میڈیا کو اس لئے کنٹرول کر رہے ہیں کہ جمہوری لوگوں اور پارلیمان کی رپورٹنگ نہ کی جائے۔ ان کا کنا تھا کہ وزیر اطلاعات نے جو کہا ہے بالکل درست ہے، مرکزی حکومت کو چلنے دیا جا رہا ہے نہ صوبائی حکومتوں کو۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہچیئرمین سینیٹ کی طرف سے اس پر رولنگ آنی چاہئے کہ پارلیمان میں جو بھی بات کی جائے اس پر غیر ضروری اور غیر جمہوری بندش نہیں ہونی چاہئے، غیر اعلانیہ سنسر شپ کے خلاف ہمیں جدوجہد کرنی چاہئے۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ آزادی صحافت کی جنگ لڑنے والے ہمارے ہیرو ہیں، وزیر اطلاعات نے اپوزیشن ارکان سے زیادہ بلند آہنگ طریقے سے اس واقعہ کی مذمت کی ہے، صحافیوں کے تحفظ کے لئے قانون سازی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہپروفیسر خورشید احمد نے اس حوالے سے بل متعارف کرایا تھا، اسے منظور کرایا جائے۔ اس ایوان کو طاقت کا مرکز ہونا چاہئے، اس ایوان کے تقدس کے لئے ہمیں کھل کر بات کرنی چاہئے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت پیر تک اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ دے۔