مولانا فضل الرحمان نے ملک میں ایک بار پھر جوڈیشل مارشل کی آواز بلند کر دی

عمران خان اس ملک کے سربراہ بنے تو یہ ملک کی بدقسمتی ہوگی،ملک میں جوڈیشل مارشل لگا دینا چاہیے،مولانا فضل الرحمان

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ مئی 19:05

مولانا فضل الرحمان نے ملک میں ایک بار پھر جوڈیشل مارشل کی آواز بلند ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4مئی۔2018ء) مولانا فضل الرحمان نے ملک میں ایک بار پھر جوڈیشل مارشل کی آواز بلند کر دی۔ایم ایم اے کے صدر اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا۔ عمران خان اس ملک کے سربراہ بنے تو یہ ملک کی بدقسمتی ہوگی،ملک میں جوڈیشل مارشل لگا دینا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ملک میں ایک بار پھر جوڈیشل مارشل کی آواز بلند کر دی۔

مولانا فضل الرحمان ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔اس دوران انہوں نے اہنے مخالفین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے کہا کہ 5 سال میں تو ایک بار بھی کسی نے نئے صوبے کی آواز بلند نہیں کی یہ اچانک کیا ہو گیا ہے کہ سب کو نئے صوبے کی فکر ہو گئی۔اس موقع پر انہوں نے عمران خان نے اتحاد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم بنے تو یہ ہماری بد قسمتی ہوگی۔

(جاری ہے)

عمران خان کے ساتھ اتحاد کے لیے ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا جو ہم کبھی بھی نہیں کریں گے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے ملک میں ایک بار پھر جوڈیشل مارشل کی آواز بلند کر دی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران ڈلیور نہیں کر سکے اور عوام کی کوئی حیثیت نہیں، ملک میں عدلیہ کا مارشل لا لگا دینا چاہیے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے شیخ رشید بھی جوڈیشل مارشل لا نافذ کرنے کی بات کر چکے ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگا دیں ۔

جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے سختی سے اس کی گنجائش کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین ایسا کرنے کی گنجائش نہیں دیتا۔انکا کہنا تھا کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لا کی باتیں کرنے والے مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی جوڈیشل مارشل کی کسی قسم کی گنجائش موجود ہے کہ اس پر عمل کیا جا سکے۔