لاہور، 550 ارب کے بجٹ والے پلاننگ اینڈ ڈویلمنٹ بورڈ کی تشکیل کے خلاف درخواست پر پنجاب حکومت کے وکلا کو 9 مئی کو مزید دلائل پیش کرنے کا حکم

جمعہ مئی 23:42

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے 550 ارب روپے کے بجٹ والے پلاننگ اینڈ ڈویلمنٹ بورڈ کی تشکیل کے خلاف درخواست پر پنجاب حکومت کے وکلا کو 9 مئی کو مزید دلائل پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے 21 ویں گریڈ کے افسر سید حسین حیدر کی درخواست پر سماعت کی ۔ درخواست گزار کے وکلا ڈاکٹر عبدالباسط اور جاوید اقبال جعفری نے دلائل دئیے۔

عدالت نے حکومتی وکیل کو ہدایت کی کہ آپ بورڈ کے قیام اور قانونی ہونے کے بارے مزید دلائل دیں، درخواست گزار کی طرف سے ڈاکٹر عبدالباسط ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔ درخواست کا کہنا تھا کہ پی اینڈ ڈی پراجیکٹ کی تشکیل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، پی اینڈ ڈی بورڈ نے صوبے میں 20 مختلف پراجیکٹس اور ادارے شروع کر رکھے ہیں۔

(جاری ہے)

پی اینڈ ڈی بورڈ سالانہ 550 ارب روپے کا بجٹ فضول پراجیکٹس پر ضائع کیا جارہا ہے۔

مجھے نیوٹریشن پراجیکٹ اور نیوٹریشن سنٹر کا پراجیکٹ ڈائریکٹر بنایا گیا، کرپشن سے انکار اور سرکاری پیسے کے ضیاع کیخلاف آواز اٹھائی تو برطرف کردیا گیا، چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ جہانزیب خان نے غیر قانونی طور پر دس بڑی گاڑیاں ذاتی استعمال کیلئے رکھی ہیں، ممبر بورڈ ڈاکٹر شبانہ حیدر نے محکمہ صحت اربوں روپے کی ناقص سکیمیں متعارف کرائیں۔

ان ناقص سکیموں کی وجہ سے محکمہ صحت کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔ لاکھوں روپے تنخواہ پر غیر ملکی خاتون سمیت بھرتیاں کی گئیں۔ محکمہ پی اینڈ ڈی بورڈ کے رولز آف بزنس نہیں بنائے گئے۔ محکمہ پی اینڈ ڈی اور پی اینڈ ڈی بورڈ دونوں ادارے ایک ہی کام کر رہے ہیں، پی اینڈ ڈی بورڈ پہلی بار ون یونٹ میں 1967 میں ایک سال کیلئے بنایا گیا، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پی اینڈ ڈی کی تشکیل کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرے۔