پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان کابلوچستان میں مزدورں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر افسوس کا اظہار

آج تک ان واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی غفلت کے مرتکب حکومتی عہدیداروں کو ملازمتوں سے فارغ کیا گیا،رہنمائوں کا مشترکہ بیان

اتوار مئی 20:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان((رجسٹرڈ) کے رہنمائوں محمد رمضان اچکزئی، خان زمان، حاجی بشیر احمد،عبدالمعروف آزاد، حاجی عزیز اللہ،محمد یوسف، عزیز احمد شاہوانی، محمد قاسم کاکڑ،سیف اللہ، محمد رفیق لہڑی، فیض اللہ، غلام نبی بروہی، نظام الدین کرد، ملک عبدالوحید کاسی، عبدالباقی لہڑی، بخت نواب، عابد بٹ اور دیگر نے ایک مشترکہ اخباری بیان کے ذریعے خاران میں 06 مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ اور گزشتہ دن مارواڑ، سنجدی اور مارگٹ کی کوئلہ کانوں میں گیس بھرنے سے دھماکوں کے ذریعے 18کانکنوں کے جاں بحق ہونے، 09 کانکنوں کے زخمی ہونے اور5 کانکنوں کے لاپتہ ہونے کے پے درپے واقعات کو شہریوں کی جان کی حفاظت میں صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

(جاری ہے)

کنفیڈریشن کے رہنمائوںنے کہا کہ اس سے پیشتر بھی کوئلے کی کانوں میں مزدور جاں بحق ہوئے،گڈانی میں پے در پے واقعات میں جھلس کر 32 کارکن جاں بحق ہوئے اور گوادر،تربت ،پسنی اور صوبے کے دیگر علاقوں میں مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن چکا ہے لیکن آج تک ان واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی غفلت کے مرتکب حکومتی عہدیداروں کو ان واقعات میں ملازمتوں سے فارغ کیا گیا تاکہ معاشرے میں احساس ذمہ داری کو بڑھایا جاسکتااسی طرح مائنز سے تعلق رکھنے والے افسران نے بھی کبھی سنجیدگی سے مزدوروں کی سیفٹی کو اولیت نہیںدی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کے ذریعے مزدوروں کے قتل عام پر آج تک کوئی ڈپٹی کمشنر ملازمت سے برخاست نہیں ہوا اسی مبہم اور کرپشن پر مبنی سسٹم کی وجہ سے آئے روز محنت کش اپنی زندگیوں کی بازی ہارجاتے ہیں جوغریب محنت کش اپنے شہر کو چھوڑ کو یہاں اپنی روزی روٹی کیلئے کام کرتے ہیں ان کے اہلخانہ منتظر ہوتے ہیں کہ ان کی کمائی سے وہ گھرکا چولہا جلائیں گے لیکن بد قسمتی سے ان کے گھروں میں جنازے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ محنت کو کرپشن کا گڑھ بنادیا ہی20 اور21 گریڈ کے اہل اور ایماندار سیکریٹریوں کے بجائے 19 گریڈ کے جونیئر افسر کوصوبائی وزیر محنت کے خاوند کی سفارش پر سیکریٹری محنت بنایا گیا ہے جنہوں نے چارج لینے کے بعد ٹینڈرز، بچوں کی وردیوں، ٹرانسپورٹ اوربھرتیوں میں کرپشن کی انتہا کردی ہے اور ایسے علاقوں میں پراجیکٹس بنائے جارہے ہیں جہاں مزدوروں کی رجسٹریشن بھی نہیں ہے ۔

کنفیڈریشن کے رہنمائوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے خاران میںمحنت کشوں کی ٹارگٹ کلنگ پر از خود نوٹس لینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ ان کارکنوں کی اموات، گڈانی کے واقعات میں شہید32 کارکنوں اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صوبے میںقتل ہونے والے کارکنوں کی اموات کا بھی نوٹس لے اور ان واقعات میں غفلت کے مرتکب ذمہ داروں ،،کمپنی اور کانوں کے مالکان کی غیرذمہ داریوں پر بھی ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہداء کے لواحقین کو سانحہ 08 اگست میں شہید ہونے والے وکلاء کی طرح ایک،ایک کروڑ روپے کمپن سیشن دینے کے احکامات بھی جاری کیے جائیں۔

کنفیڈریشن کے رہنمائوں نے صوبے میں حکومتی رٹ قائم نہ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی 11مئی کو کوئٹہ آمد کے موقع پر کنفیڈریشن غریب محنت کشوں کی حفاظت کیلئے مزدوروں کی طرف سے عدالت عالیہ بلوچستان کے سامنے فریادی مظاہرہ کرکے غریبوں کی جانوں کی حفاظت کرنے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے،لواحقین کو کمپن سیشن کی ادائیگی کرنے اورمحکمہ محنت اور صوبے کے دیگر محکموں میں بھرتیوں سمیت دیگر کرپشن کے خلاف موثر کارروائی کرنے کی اپیل کی جائے گی۔