وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم عابد کا اعترافی بیان

فیض آباد دھرنے میں فیصلہ کیا تھا کہ جو بھی گستاخ رسولﷺ ہو گا اُسے جہنم واصل کروں گا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 15:59

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم عابد کا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 مئی 2018ء) : وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم عابد کا اعترافی بیان سامنے آ گیا ہے۔ پولیس کو دئے اپنے اعترافی بیان میں ملزم عابد نے کہا کہ میں اپنے دوست عظیم کے ساتھ اس کی موٹر سائیکل پر کارنر میٹنگ میں پہنچا، ساتھی عظیم کوحملے کے حوالے سے معلوم نہیں تھا۔ ملزم نے کہا کہ مجھے داتا علی ہجویری نے احسن اقبال کو مارنے کا کہا۔

ملزم کا کہنا تھا کہ میں نے فیض آباد دھرنے میں ہی فیصلہ کیا کہ جو بھی گستاخ رسولﷺ ہو گا اُسے جہنم واصل کر دوں گا۔ عابد نے پولیس کو بتایا کہ میری والدہ کچھ مذہبی رہنماؤں کی کیسٹ سنتی ہیں، میری والدہ نے مجھے کہا تھا کہ بیٹا ان کے نقش قدم پر زندگی بسر کرنا، عابد نے کہا کہ مجھے خواب میں حضرت داتا علی ہجویری کی زیارت بھی ہوئی۔

(جاری ہے)

وہ خادم حسین رضوی کو اُٹھائے ہوئے جا رہے تھے ، میں نے پوچھا کہ جناب آپ نے ان کو کیوں اُٹھایا ہوا ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ یہ نبی پاک ﷺ کا بہت منظور نظر تھا۔

یا درہے کہ ملزم عابد کی ہمشیرہ نے بھائی کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ بھائی کا کسی جماعت سے تعلق کا علم نہیں ، معلوم نہیں بھائی نے احسن اقبال کو گولی کیوں ماری۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملزم عابد کا تعلق تحریک لبیک پاکستان سے ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز پولیس نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم عابد کو گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس نے عابد کے ساتھ ساتھ جلسے کا اہتمام کرنے والے گلفام مسیح کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احسن اقبال پر دو ماہ قبل جوتا پھینکنے والے بلال کو بھی شامل تفتیش کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔