وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کا مقدمہ تھانہ شاہ غریب میں درج کر لیا گیا

پیر مئی 18:15

وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کا مقدمہ تھانہ شاہ غریب میں درج ..
شکرگڑھ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کا مقدمہ تھانہ شاہ غریب میں درج کر لیا گیا ۔۔پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمہ میں دہشتگردی ۔ اقدام قتل ۔

(جاری ہے)

اور ناجائز اسلحہ کی دفعات شامل کی گئی ہیں میڈیا نے احسن اقبال پر سخت ترین سکیورٹی کے باوجود قاتلانہ حملہ کی کامیاب کوشش کی کھوج لگائی تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ تھانہ شاہ غریب کی حدود میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعہ کی روک تھام کے لئے شاہ غریب پولیس نے ناقص حکمت عملی سے کام لیا تھا شاہ غریب تھانہ کا ایس ایچ او احسن اقبال کی کنجروڑ آمد پر تقریب میں پہنچا ہی نہیں تھا نہ ہی ملزم عابد کو کسی نے تقریب میں شامل ہونے پر چیک کیا تھا یہی وجہ ہے کہ مسلح ملزم تقریب میں سب سے آگے پہلی لائن پر حملہ کے لئے گھات لگائے بیٹھا تھا نارووال پولیس نے ملزم کے ایک اور ساتھی عظیم جو کہ منظور پورہ کا رہائشی ہے کو حراست میں لے لیا ہے بتایا گیا ہے کہ ملزم عظیم ملزم عابد کے ساتھ موٹر سائیکل پر کنجروڑ تقریب میں پہنچا تھا جسکے بعد وہ فرار ہو گیا تھا باوثوق ذرائع کے مطابق ایس ایچ او شاہ غریب اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد وہاں پہنچا تھا دوسری جانب عوامی سیاسی سماجی حلقوں نے شاہ غریب پولیس کی اس سنگین اور مجرمانہ غفلت پر شدید احتجاج کرتے تھانہ شاہ غریب کے ایس ایچ او شہباز چیمہ کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے احسن اقبال گذشتہ روزقاتلانہ حملہ میں شدید زخمی ہوگئے تھے