ایم ایم اے کی بحالی کا مقصد پاکستان کے ایجنڈے اور مقاصد کی تکمیل ہے، مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی کے مرکزی رہنمائوں سے گفتگو

منگل مئی 00:00

سکھر۔ 7مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) جے یو آئی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کی بحالی کا مقصد پاکستان کے نامکمل چھوڑے ہوئے ایجنڈے اور مقاصد کی تکمیل عالم اسلام کا اتحاد ملکی سلامتی خود مختاری اور وحدت کا تحفظ اور ملک میں مکمل اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔یہاں جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی کے مرکزی رہنمائوں مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا امجد خان، حافظ حسین احمد، علامہ راشد محمود سومرو، آغا سید ایوب شاہ اور دیگر سے گفتگو کے دوران کیا۔

سکھر میں صوبائی ایڈیشنل انفارمیشن سیکرٹری مولانا عبدالحق مہر کی جانب سے اخبارات کو جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز جے یو آئی کے مرکزی رہنمائوں سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ اور مغربی استعماری قوتیں مسلمانوں اور اسلام کو مٹانے کی گھنائونی سازشوں میں مصروف ہیں، عالم اسلام میں آگ لگی ہوئی ہے، پاکستان سعودی عرب ایران کے خلاف گھیرائو تنگ کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ان حالات سے چشم پوشی کیسے کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالم اسلام متحد ہوکر اسلام و مسلمان دشمن قوتوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنائے اور بدمست امریکی ہاتھی کو نکیل ڈالی جائے، ایم ایم اے سربراہ کا کہنا تھاکہ امریکہ نے اتحادی بن کر پاکستان کو دھوکہ دیا اور ہماری سلامتی کو خطرات میں ڈالنے کی کوشش کی وہ اب سعودی عرب کو دھوکہ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان استعماری قوتوں کے جابرانہ فیصلوں اور مسلط کردہ پالیسیوں کی وجہ سے آج سنگین مشکلات سے دوچار ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ بدترین حالات سے گذر رہی ہے۔ ان حالات میں مجلس عمل امت مسلمہ اور عالم اسلام کی آواز بن کر اٹھی ہے۔ ہمیں استعماری قوتوں کی غلامی کا طوق اب گلے سے اتار پھینکنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی لیڈر عمران خان نے امت مسلمہ کے مسائل پر خاموشی اختیار کر کے اپنے آقائوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے نام نہاد انقاط این جی اوزی منشور اور پرویز مشرف کے سیاسی نظریہ کا اجراء ہے۔

ان کا لاہور کا جلسہ سیاسی کم میوزیکل زیادہ ہے جسے لاہور کے عوام نے مسترد کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل پشاور میں ہونے والا ہمارا اجتماع اس سے سوگنا بڑا تھا کپتان کو وہاں جواب دینے کی جرئت نہ ہوئی اس لئے انہوں نے وہاں سے فرار کا راستہ اختیار کر کے لاہور میں جلسہ کر کے بڑا دعویٰ کیا مگر ہم 13 مئی کو لاہور میں اس سے بھی بڑا جلسہ کر کے اس کو مات دینگے اور دنیا کے سامنے ثابت کرینگے کہ لاہوریوں کے دل بھی اسلام اور امت مسلمہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں، دنیا کی کوئی طاقت اب اسلام کا راستہ روک نہیں سکتی۔