جیکب آباد: سی آئی اے پولیس کی کاروائی، سنگین وارداتوں میں ملوث ڈکیت کلاشنکوف سمیت گرفتار

منگل مئی 00:00

سکھر۔ 7مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) جیکب آباد: سی آئی اے -1 پولیس کی کاروائی، پولیس مقابلے کے دوران ارادہ قتل،، قتل،، ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث 10 لاکھ سر کی قیمت والا ڈکیت کلاشنکوف سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ایس پی جیکب آباد کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ چاچڑ کی ہدایات پر انچارج سی آئی اے -1 کو خفیہ اطلاع ملی کہ کچھ ڈکیت کسی سنگین نوعیت کے جرم کے ارادے سے تھانہ صدر کی حدود بھٹی لاڑو کے قریب موجود ہیں۔

مذرہ اطلاع ملتے ہی انچارج سی آئی اے -1 سب انسپیکٹر منظور احمد ڈومکی بمعہ اسٹاف فوری طور پر جیسے ہی تھانہ صدر کی حدود میں بھٹی لاڑو کے قریب پہنچے تو 3 مسلحہ ڈکیتوں نے پولیس کو دیکھتے ہی کلاشنکوف سے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی، پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی، دوران فائرنگ موبائیل تھانہ صدر بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، ملزمان کی فائرنگ سے تھانہ صدر پولیس کی موبائیل کو نقصان پہنچا، فائرنگ کے تبادلے کے دوران گولیاں ختم ہوتے ہی ایک ملزم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کلاشنکوف سمیت خود کو پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ 2 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے دوران تفتیش یہ انکشاف ہوا کہ گرفتار ڈکیت کا نام بابو عرف محمد بخش ولد امام بخش عرف سنگم میر جت ہے اور ملزم ارادہ قتل،، قتل،، ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب ہے، ملزم کے خلاف تھانہ صدرکیس داخل کر دیئے گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

گرفتار ڈکیت بابو عرف محمد بخش ولد امام بخش عرف سنگم میر جت نے 26 نومبر 2008 کو اپنے 4 ساتھیوں سمیت ملکر تھانہ دوداپور کی حدود میں نیشنل بینک کی گاڑی کو روک کر 30 لاکھ روپے کی رقم لوٹ لی تھی اور گاڑی میں موجود پولیس کانسٹیبل امداد علی سے سرکاری کلاشنکوف چھین کر فرار ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد تھانہ محمد پور اوڈھو پولیس نے پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈکیت عبدالغفار بوھڑ کو گرفتار کیا تھا جبکہ ڈکیت بابو عرف محمد بخش ولد امام بخش عرف سنگم میر جت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

گرفتار ملزم عبدالغفار بوھڑ کے قبضے سے سرکاری کلاشنکوف اور لوٹی گئی رقم 2 لاکھ برآمد کر لی گئی تھی جس کا مندرجہ ذیل مقدمہ تھانہ محمد پور پر درج کیا گیا تھا۔ گرفتار انعام یافتہ ڈکیت مندرجہ ذیل 7 سنگین نوعیت کے کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھا ملزم کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر گورئنمٹ آف سندھ نے مندرجہ ذیل نوٹیفکیشن کے تحت 10 لاکھ انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔