8مئی تھیلے سیمیا کا عالمی دن ، تھیلے سیمیا کے عالمی دن کے موقع پرعمیر ثناء فائونڈیشن کے تحت واک کا انعقاد

فوری طور پر تھیلے سیمیا رجسٹری عمل میں لائی جائے اورسرکاری سطح پر تھیلے سیمیا کنٹرول پروگرام تشکیل دیا جائے کراچی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ تھیلے سیمیا مینیجمنٹ اینڈ پری وینشن سینٹر قائم کیا جائے۔ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری

منگل مئی 23:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) عمیر ثناء فائونڈیشن کے تحت تھیلے سیمیا سے آگاہی کے لیے یکم مئی سے 8مئی تک چلائی جانے والی ہفت روزہ مہم کے سلسلے میںتھیلے سیمیا کے عالمی دن کے موقع پر کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نارتھ ناظم آباد میں تھیلے سیمیا سے آگاہی واک منعقد کی گئی۔واک کی قیادت کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے فیکلٹی ممبران نے کی۔

واک میں طلبہ و طالبات اور اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پرکراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی اسٹوڈنٹس ایڈوائزر ڈاکٹر فریدہ اسلام،پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر گلناز،،ڈاکٹر سجاد،کمیونیٹی میڈیسن کے چیئر مین فرحت جعفری،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی فہمیدہ شاہد اور دیگر بھی موجود تھے۔واک میں طلبہ و طالبات نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’شادی سے پہلے تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ کرائونئی نسل کو تھیلے سیمیا سے بچائو۔

(جاری ہے)

تھیلے سیمیا بل پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔شناختی کارڈ میں تھیلے سیمیا کا اسٹیٹس درج کیا جائے۔ تھیلے سیمیا کے بچوں کی جان بچائو،عطیہ ٴ خون کے رجحان کو بڑھائو اور دیگر نعرے و مطالبات درج تھے۔واک سے خطاب کرتے ہوئے عمیر ثناء فائونڈیشن کے مینیجر بلڈ ڈونیشن ڈرائیو ڈاکٹر سید راحت حسین نے کہا کہ یونان اور دیگر ممالک کی طرح اگر پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر تھیلے سیمیا اسکریننگ پروگرام شروع کر دیا جائے تو بہت جلد پاکستان سے تھیلے سیمیا کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان کو عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے چاہیے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو تھیلے سیمیا جیسے جنیاتی مرض سے بچانے کے لیے اپنا تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ ضرورکرائیں۔انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا،تمام طبقات مل کر ہی اس مرض کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھیلے سیمیا کی روک تھام کے حوالے سے حکومتِ سندھ نے جو قانون سازی کی ہے اس پر فی الفور عمل درآمد کرایاجائے۔