نواز شریف پر منی لانڈرنگ کا الزام

معروف تجزیہ نگار نے اسے نیب کے لیے شرمندگی کا سماں قرار دے دیا ورلڈ بینک کی رپورٹ میں نہ منی لانڈرنگ کا ذکر ہے اور نہ ہی نواز شریف کا ذکر ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 11:59

نواز شریف پر منی لانڈرنگ کا الزام
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔09مئی 2018ء) معروف تجزیہ نگار کامران خان نے نیب کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزام کو شرمندگی کا سماں قرار دے دیا۔کامران خان کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کی 2016کی رپورٹ میں کہیں بھی منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی کہیں نواز شریف کا نام لکھا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق معروف تجزیہ نگار کامران خان کا دوران پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیب کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر تقریبا 5 ارب ڈالر بھارت منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا۔

یہ بہت بڑا الزام تھا اور ایک تہلکہ خیز الزام تھا اور نیب کی اس پریس ریلیز سے ٹی وی سکرین بھر گئیں۔جس میں کہا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگر افراد کے خلاف 4.9 ارب ڈالر بھارت منی لانڈرنگ سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیا ہے۔

(جاری ہے)

نیب نے اپنے اعلامیہ میں لکھا ہے کہ یہ بات ورلڈ بینک مائیگریشن اینڈ ریمڈینس بک 2016ء میں موجود ہے۔

نیب نے اپنے اعلامیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارتی حکومت کے سرکاری خزانہ میں 4ارب 9 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم بھجوائی گئی ہے۔رقم کی منتقلی سے بھارتی حکومت کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہو گیا ہے۔جس کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔کامران خان کا مزید کہنا تھا کہ نیب نے اپنے اعلامیہ میں ’ مبینہ ‘ کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔

اور یہ بات براہ راست اس اعلامیہ میں نواز شریف کا نام ڈال دیا گیا۔لیکن یہ حقیقت دس پندرہ منٹ کے اندر ہی کھل گئی جب لوگوں نے ریسرچ کرنا شروع کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ تو طوطہ مینا کی کہانی ہے۔کیونکہ آج ہی ورلڈ بینک نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے کہ ورلڈ بینک کی 2016کی رپورٹ پر تبصرے کیے جا رہے ہیں ۔اور ہماری رپورٹ میں کہیں بھی منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی کہیں نواز شریف کا نام لکھا گیا ہے۔

ورلڈ بین کے سربراہ دلیپ راٹھا کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں درج پاکستان سے بھارت بھیجی گئی ترسیلات حقیقی ڈیٹا نہیں ہے۔یہ وہ تخمینہ ہے جو دنیا بھر میں ایک دوسرے کو بھیجی جانے والی ترسیالات کو مد نظر رکھ کر اخذ کیا جاتا ہے۔اور اس کی بنیاد مفروضے پر رکھی گئی ہے۔مزید تفصیلات کے لیے ویڈیو ملاحظہ کیجئے: