چیف جسٹس کا پشاورمیں تمام چیک پوسٹیں ختم کرنےکا حکم

چیف سیکرٹری بتائیں کن مقامات پرسکیورٹی ضروری ہے،وہاں چیک پوسٹیں بنانے کیلئےعدالت سے اجازت لی جائے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کے ریمارکس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ مئی 18:28

چیف جسٹس کا پشاورمیں تمام چیک پوسٹیں ختم کرنےکا حکم
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) : چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثارنے پشاور میں تمام چیک پوسٹیں ختم کرنے کا حکم دے دیا، انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری بتائیں کن مقامات پرسکیورٹی ضروری ہے، وہاں چیک پوسٹیں بنانے کیلئے عدالت سے اجازت لی جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارمختلف کیسز کی سماعت کیلئے آج پشاور رجسٹری پہنچے۔

پشاور رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا کہ شہر کے تمام راستوں کو کھولنے کیلئے 24 گھنٹے میں پشاور شہر میں قائم تمام چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔ جبکہ چیف سیکرٹری عدالت سے اجازت لیکر جن مقامات اور سفارتخانوں میں سکیورٹی کی ضرورت ہے وہاں سکیورٹی فراہم کی جائے۔ اس سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نے پشاوردورے کے آغاز پرسنٹرل جیل پشاور کے قریب مینٹل ہسپتال کا دورہ کیا۔

(جاری ہے)

ہسپتال میں ناقص انتظامات پر ایم ایس کی سرزنش کی اور کہا کہ کیاصحت کی سہولیات یوں فراہم کی جاتی ہے آپ لوگ مان لیں کہ صفائی کے انتظامات ناقص ہیں اس موقع پر چیف جسٹس نے ادویات سے نمونے لیکرسٹاف کے حوالے کردئیے اوراحکامات جاری کئے کہ ان کی چیکنگ کی جائے چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کو طلب کیا وزیراعلیٰ کی آمدسے قبل چیف جسٹس دماغی امراض کے ہسپتال کے قریب سنٹرل جیل چلے گئے وزیراعلیٰ پرویزخٹک بھی چیف جسٹس سے ملنے کیلئے سیدھے سنٹر ل جیل گئے جیل ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ کواحکامات جاری کئے کہ دماغی امراض کے مریضوں کے لئے اعلیٰ معیار کا ہسپتال قائم کیاجائے اورموجودہ ہسپتال میں جوسہولیات دی جارہی ہیں وہ ناکافی ہیں بعدازاں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے کہاکہ وہ خود سات روز کی سزا کاٹ چکے ہیں جیل اور ہسپتال دونوں میں سہولیات کا فقدان ہے جون میں دماغی امراض کیلئے نیاہسپتال قائم ہوجائے گا جس کے بعد تمام مریضوں کو وہاں منتقل کیاجائیگا۔