پولیس کی جانب سے پرتشدد واقعات کے باعث شہریوں میں خوف وہراس

جمعرات مئی 20:34

راولپنڈی10مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں پولیس کی جانب سے پرتشدد واقعات کے باعث شہریوں میں خوف وہراس پھیلنے لگا ہے جبکہ دو تھانوں کے اندر نوجوانوں کی ہلاکت سے عوام نے عدالت عظمیٰ سے ہلاکتوں کے ذمہ دار اہلکاروں اور افسران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔واضح رہے کہ دو روز قبل راولپنڈی کینٹ میں ایک شہری کی ہلاکت پر اس کے لواحقین نے الزم عائد کیا تھا کہ تھانہ آر اے بازار پولیس نے تین بچوں کے والد منصور کو تھانہ آر اے بازار میں چار روز تک تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے جب منصور کی حالت بگڑ گئی تو سے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

اہل علاقہ اور لواحقین کا کہنا تھا کہ منصور ایک اچھا انسان تھا جس کا جرائم سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر تھانہ آر اے بازار پولیس نے بغیر کسی جرم کے ملزم کو تشدد کر کے قتل کیا گیا ہے جس پر منصور کے لواحقین نے پولیس کے خلاف اجتجاج کیا تو سی پی اوراولپنڈی افضال احمد کوثر نے نوجوان کی ہلاکت کا نوٹس لیا۔

(جاری ہے)

پولیس کا کہنا تھا کہ نوجوان پولیس کی حراست میں نہیں تھا مگر ورثاء کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کروائی جائیں گی اور اگر کو ئی پولیس اہلکار نوجوان کی ہلاکت کا ذمہ دارا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

قبل ازیں تھانہ گنجمنڈی میں بھی ایک نوجوان کی ہلاکت پر لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس کی جانب سے جب نوجوان کو لایا گیا تھا تو بھی بلکل ٹھیک تھا مگر رات بھر پولیس کی جانب سے تشدد کرنے پر نوجوان ہلاک ہوا تھا۔تھانوں میں پولیس کی جانب سے پرتشدد واقعات کے بعد راولپنڈی کینٹ و شہر کی عوام میں خوف و ہراس پایا جانے لگا ہے ۔شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کا قبلہ درست کرتے ہوئے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔