(آئی کیپ) کی ناردرن ریجنل کمیٹی کی جانب سے مختلف شہروں میں پوسٹ بجٹ سیمینار ز

بجٹ تیاری اور معیشت میں آئی کیپ نے ہمیشہ انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے،وزیرمملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل

جمعرات مئی 22:37

لاہور۔10 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کی ناردرن ریجنل کمیٹی کی جانب سے مختلف شہروں میں پوسٹ بجٹ سیمینار ز منعقد کیے گئے جن میں ایک ہزار سے زائد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، مالیاتی ماہرین اور انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔یہ سیمینارز لاہور،، فیصل آباد، ملتان،، اسلام آباد اور پشاور میں منعقد ہوئے۔

ان ایونٹس میں لاہور اور فیصل آباد میںوزیرمملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل مہمان خصوصی تھے جبکہ ملتان میں صدر آئی کیپ ریاض اے رحمان چامڈیا، اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔دیگر مقررین میں نائب صدر آئی کیپ جعفر حسین، چیئرمین فسکل لاز کمیٹی اشفاق تولہ، چیئرمین این آر سی آئی کیپ اسد فیروز، کونسل ممبرز اورناردرن ریجنل کمیٹی ممبرز کے علاوہ کونسل ممبر و پارٹنر ای وائے محمد اویس اور پارٹنر اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس عاصم ذوالفقار علی شامل تھے۔

(جاری ہے)

لاہور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی رانا محمد افضل نے کہا کہ ان کی حکومت نے یہ چھٹا بجٹ پیش کیا ہے۔ حکومت نے محسوس کیا کہ اس بجٹ سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول تاجر، چیمبرز، ایکسپورٹرز وغیرہ کے ساتھ مشاورت کی جائے اور ان کی تجاویز بھی لی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ تیاری اور معیشت میں آئی کیپ نے ہمیشہ انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس سے حکومت کو بھی اچھی تجاویز اور بہت مدد ملتی ہیں۔ اب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے شعبے میں بھی مزید خواتین کو آگے آنا چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان کے ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے بھی آئی کیپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے ساتھ آئی کیپ کے تعلقات کو مستقبل میں مزید بڑھنا چاہیے۔

ملتان میں خطاب کرتے ہوئے صدر آئی کیپ ریاض اے رحمان چامڈیا نے وفاقی بجٹ کی تیاری میں آئی کیپ کے کردار کی وضاحت کی اور بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ کی مختلف کمیٹیاںایف بی آڑ، ایس ای سی پی،، ایس بی پی اور دیگر اہم حکومتی اداروں کی مدد کر رہی ہیں۔ آئی کیپ ممبرز ملکی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اپنے خطبہ استقبالیہ میں نائب صدر آئی کیپ جعفر حسین نے وفاقی بجٹ کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس سے انڈسٹریز اور معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی مالی سال میں سب سے اہم چیز وفاقی بجٹ ہوتا ہے۔ چیئرمین فسکل لاز کمیٹی و کونسل ممبر آئی کیپ اشفاق تولہ نے کہا کہ یہ بجٹ آئی کیپ کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ حکومت نے اس میں انسٹی ٹیوٹ کی پیش کی گئی تمام تجاویز کو منظور کر لیا ہے۔ آئی کیپ بھی بجٹ کا ایک بہت بڑا اسٹیک ہولڈر ہے۔اس سال چیئرمین ایف بی آر اور دیگر حکام کے ساتھ اجلاس نتیجہ خیز ہوئے۔

چیئرمین این آر سی اسد فیروز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی کمیٹی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی استعداد بڑھانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ہے۔ اس سلسلے میں متعدد کامیاب ایونٹس کا انعقاد بھی کیا گیا ہے۔اس موقع پر انہوں نے مختلف شہروں میں سی پی ڈی کمیٹی سربراہان، راولپنڈی، اسلام آباد سے سیکریٹری این آرسی جہانزیب امین، لاہور سے فاروق حمید، فیصل آباد سے احمد جبار، ملتان سے جاوید انجم اور پشاور سے ذیشان کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

سیمینار میں کونسل ممبر آئی کیپ محمد اویس نے براہ راست اور پارٹنر اے ایف فرگوسن عاصم ذوالفقار علی نے بالواسطہ ٹیکسوں کے حوالے سے پریزینٹیشنز دیں۔ اس دوران ایک پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوا جس کی میزبانی چیئرمین نادرن ریجنل کمیٹی اسد فیروز نے کی۔ پینلسٹ میں عاصم ذوالفقار علی، محمد اویس، سی ایف او ملت ٹریکٹرز سہیل نثار اور سربراہ ٹیکسیشن الائیڈ بینک لمیٹڈ منصور ضیغم شامل تھے۔ مقررین نے ٹیکس دہندگان اور پریکٹشنزر کو درپیش عملی اور دیگر مسائل پراظہار خیال کیا۔