رول 8 کے تحت انتخابی حلقہ بندی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے وکیل سے 17مئی تک مزید دلائل طلب

جمعہ مئی 16:57

رول 8 کے تحت انتخابی حلقہ بندی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے وکیل سے 17مئی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے رول 8 کے تحت انتخابی حلقہ بندی کے معاملے پر رکن قومی اسمبلی احسان مزاری ، شبیر بجارانی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر الیکشن کمیشن کے وکیل سے 17 مئی تک مزید دلائل طلب کر لیے ۔ جمعہ کو سندھ ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے رول 8 کے تحت انتخابی حلقہ بندی کے معاملے پر رکن قومی اسمبلی احسان مزاری ، شبیر بجارانی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی ۔

عدالت میں درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ ضلع جیکب آباد ، کندھ کوٹ ، کشمور میں قومی اسمبلی کی نشستیں 10 ، 10 لاکھ سے زائد ووٹوں پر بنائی گئی ہیں ، جو الیکشن رول 8 انتخابی قانون 2017 سے متصادم ہے۔ اس رول کے تحت کئی نشستیں 10 لاکھ سے زائد ووٹرز پر مشتمل جبکہ کئی نشستیں 6 ،6 لاکھ پر مشتمل ہیں ۔

(جاری ہے)

درخواست میں مزید کہا گیا کہ رول 8 کے تحت کچھ حلقوں کے 6 لاکھ ووٹرز ایک رکن کو منتخب کر رہے ہیں جبکہ کچھ حلقوں میں 10 لاکھ ووٹرز ایک رکن کو منتخب کر رہے ہیں ۔

عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ قومی اور صوبائی نشستوں کی تقسیم فارمولے کے مطابق ضلع کی حدود میں کی گئی ہے ۔ الیکشن کمیشن رولز کے مطابق ضلع کی حدود میں حلقہ بندی کا پابند ہے ۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے 17 مئی تک مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔