سینٹ نے مصیبت زدہ اور قید خواتین فنڈز ایکٹ 1996 میں ترمیم سمیت 13 بلوں کی متفقہ طور پر منظوری دیدی

منظورکردہ بلز میں 12 بل حکومتی ،ایک نجی ہے ، قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں چند دن باقی رہنے کے باعث چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائے بغیر ہی ایوان سے منظور کروالئے

جمعہ مئی 23:31

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سینٹ نے مصیبت زدہ اور قید خواتین فنڈز ایکٹ 1996 میں مزید ترمیم اور بچوں کے تحفظ سے متعلق بل سمیت 13 بلوں کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ، سینٹ کی طرف سے منظورکردہ بلز میں 12 حکومتی اور ایک نجی بل ہے ، قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں چند دن باقی رہنے کے باعث چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائے بغیر ہی ایوان سے منظور کروالئے،چئیرمین سینٹ نے ایک روز میں ایک درجن سے زائد بلز منظور کرنے پر ارکان کو مبارکباد بادی اور کہا کہ سینٹ کی طرف سے کی گئی قانون سازی کا مقصد ملک اور عوام کا مفاد ہے۔

جمعہ کو ایوان بالا میں وزیر قانون چوہدری بشیر ورک نے مہاجرین کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے قانون وضع کرنے کا بل 2017 پیش کیا جس کی ایوا ن نے متفقہ طور پر منظوری دے دی ، اس بل کو قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے ، وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ نے مصیبت زدہ اور قید خواتین فنڈ ایکٹ 1996 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی ، وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑکم عمر بچوں کے لئے فوجداری نظام انصاف کے لئے قانون وضح کرنے کا بل پیش کیا جسے منظور کر لیا گیا ، وزیر مملکت رانا افضل نے ہاوس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن ایکٹ 1952 کی تنسیخ کا بل پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی ، وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے اسلام آباد میں بچوں کے تحفظ اور نگہداشت کے لئے قانون وضح کرنے کاپیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی ، وزیر تعلیم بلیغ الرحمن نیادارہ برائے فن و ثقافت کے قیام کے لئے قانون وضح کرنے کا بل پیش کیا ایوان نے اس کی منظوری دے دی ، وزیر مملکت رانا محمد افضل نے فیڈرل ایمپلائز بینو ویلینٹ فنڈ اور گروپ انشورنس ایکٹ 1969 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ، پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعی فوجداری 1898 میں مذید ترمیم کا بل پیش کیا جسے ایوان ننے متفقہ طور پر منظور کر لیا ،سینٹ نے ریکارڈ 13 بلوم کی منظوری دی ہے تمام بل اتفاق رائے سے منظور کیے گئے ہیں ، متفقہ طور پر منظور کئے گئے بلوم میں سے 12 حکومتی بل جبکہ ایک بل نجی تھا، اس موقع پر چیئرمین سینیٹ محمدصادق سنجرانی نے ریمارکس میں کہا آج سینیٹ آف پاکستان نے جتنی قانون سازی کی ہے اس کا مقصد صرف اور صرف عوامی مفاد اور ملک کی ترقی ہے۔

(جاری ہے)

ان قوانین کے ثمرات پاکستان کی عوام کیلئے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور آئین کے آرٹیکل 76 کے تناظر میں ، جس کے تحت قومی اسمبلی سے پاس کر دہ بل جو کہ سینیٹ کو بھیجے گئے ہیں اگر قومی اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے سے پہلے پاس نہ ہوتے تو یہ بل ختم ہو جاتے۔ چیئرمین سینیٹ محمدصادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ آف پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ان تمام بل کو پاس کیا جائے جس کیلئے بعض قواعد میں رعایت کی ضرورت تھی۔