چیئرمین نیب کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

نیب کی بھارت رقوم بھجوانےکی پریس ریلیزنوازشریف کوبدنام کرنےکیلئےجاری کی گئی،چیئرمین نیب کوغیرمشروط معافی مانگنےاورعہدے سے ہٹانے کا حکم دیا جائے۔درخواستگزار کی عدالت سے استدعا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ مئی 16:11

چیئرمین نیب کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12مئی 2018ء) : چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی،جس میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب کی جانب سے بھارت رقوم بھجوانے کی پریس ریلیزنوازشریف کو بدنام کرنے کیلئے جاری کی گئی،،چیئرمین نیب کوغیرمشروط معافی مانگنےاورعہدے سے ہٹانے کا حکم دیا جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین نیب کے خلاف ن لیگی رہنماء بھی میدان میں آگئے ہیں۔

مسلم لیگ ن جاپان کے رہنما نوراحمد اعوان نے چیئرمین نیب کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ درخواست کے متن کے مطابق چیئرمین نیب نے8 مئی کو ایک پریس ریلیز جاری کی۔ پریس ریلیز میں نواز شریف کی جانب سےپیسےبھارت منتقل کرنے کا ذکرکیا گیا ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ مائیگریشن اینڈ ریمیٹنس بک 2016ء سے اٹھائی گئی۔

(جاری ہے)

جبکہ بینک دولت پاکستان اس الزام کو 21 ستمبر 2016 کو مسترد کر چکی ہے۔

درخواست میں مزید کہا کہ نیب کی پریس ریلیز نواز شریف کو بدنام کرنے کے لیے جاری کی گئی۔
جبکہ اس پرنیب چیئرمین کی جانب سے کوئی تردید جاری نہیں کی گئی۔ پریس ریلیز جان بوجھ کر نواز شریف کے خلاف جاری کی گئی۔ پریس ریلیز کے اجراء سے ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان پیدا ہو چکے ہیں۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ پریس ریلیز جاری کرنے کے عمل کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا جائے۔

چیئرمین نیب سے غیر مشروط معافی مانگنے کا حکم دیا جائے۔ چیئر مین نیب کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کو فریق بنایا گیا ہے۔ واضح رہے نیب نے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف پر بھارت منی لانڈرنگ کے ذریعے چار ارب نوے کروڑ ڈالر بھجوانے کا الزام لگایا گیا۔ جس پرنوازشریف نے چیئرمین نیب کو معافی مانگنے اور عہدہ چھوڑنے کی ڈیڈلائن دے رکھی ہے۔ نوازشریف نے خبردار کیا کہ اگر چیئرمین نیب نے معافی نہ مانگی توقانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔