افغان فورسز پر طالبان کے حملے ،30 پولیس اہلکار ہلاک ، متعدد زخمی

رات گئے ضلع بالا بلوک میں مسلح جنگجوں نے پولیس بیس کو گھیرے میں لے کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 23 پولیس اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے،سربراہ صوبائی کونسل

ہفتہ مئی 18:15

ہرات/کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) افغانستان کے مغربی صوبے فراہ میں قائم افغان فورسز کے بیسز پر طالبان کے 2 مختلف حملوں میں 30 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔فراہ میں صوبائی کونسل کے سربراہ فرید بختاور کا کہنا تھا کہ رات گئے ضلع بالا بلوک میں مسلح جنگجوں نے پولیس بیس کو گھیرے میں لے کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 23 پولیس اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ فراہ شہر میں ہی کیے جانے والے طالبان کے ایک علیحدہ حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ واقعے کے بعد حملہ آور اپنے ہمراہ ہتھیار اور دیگر سیکیورٹی آلات بھی ساتھ لے گئے۔یاد رہے کہ صوبہ فراہ افغانستان کے صوبے ہلمند اور ایران کے سرحدی علاقے کے درمیان میں قائم ہے اور گزشتہ کچھ ماہ میں یہاں کے مختلف علاقوں میں جنگجوں کی مسلح کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

فراہ کا علاقہ ایران اور افغانستان کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے معروف روٹ تصور کیا جاتا ہے۔دوسری جانب افغان فورسز، جنہیں بین الاقوامی فورسز اور فضائیہ کی بھرپور مدد حاصل ہے، مذکورہ علاقے میں کیے جانے والے متعدد آپریشنز کے باوجود جنگجوں کے خلاف کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں فراہ کے گورنر نے صوبے میں سیاسی مداخلت، کرپشن اور سیکیورٹی کی ابتر صورت حال کے باعث استعفی دے دیا تھا۔

ادھر افغان حکام کا کہنا ہے کہ ووٹرز رجسٹریشن کے دوران متعدد حملوں میں سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت کے باعث ملک میں ووٹرز کی رجسٹریشن کی حتمی تاریخ 20 اکتوبر مقرر کردی گئی ہے۔آزاد الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق رواں ہفتے کے اختتام تک 15 لاکھ افراد نے ووٹ کے لیے اندراج کرایا اور امید کی جارہی ہے کہ آئندہ 2 ماہ میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد رجسٹریشن کرالیں گے۔

ایک جاری بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف افغانستان نے ووٹنگ کی رجسٹریشن کی حتمی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کردی۔یاد رہے کہ ملک کی خراب سیکیورٹی صورت حال اور قانون سازی کے مسائل کے باعث 2015 میں ہونے والے انتخابات کو ملتوی کردیا گیا تھا۔ووٹر رجسٹریشن کی حتمی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا تھا جب اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ رجسٹریشن کے ابتدا سے تاحال مختلف حملوں میں 86 شہری ہلاک اور 185 زخمی ہوئے۔واضح رہے کہ 22 اپریل کو کابل میں ہونے والے خود کش حملے میں سب سے زیادہ 60 افراد ہلاک اور 138 زخمی ہوئے تھے۔۔