حریت رہنما اشرف صحرائی کی تحریک حریت کے رہنما پر کالا قانون نافذ کرنے کی مذمت

کٹھ پتلی حکومت نے کشمیری عوام کو جیلوں میں بند کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

اتوار مئی 13:30

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں سینئر حریت رہنما اور تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے پارٹی رہنما محمد رفیق اویسی کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوٹ بھلوال جیل جموں منتقل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت کاخیالات کی جنگ کا فلسفہ دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جب سے پی ڈی پی کی کٹھ پتلی حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے، جموںو کشمیر کو ایک اذیت خانہ بنادیا گیا ہے۔ قتل وغارت، مار دھاڑ اور گرفتاریاں کٹھ پتلی حکومت کا مشن رہا جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور آزادی پسندوں کو بالعموم اور تحریک حریت کو بالخصوص سیاسی سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لیے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیاگیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جاری جدوجہد آزادی کو فوجی طاقت سے دبانے کے لیے تمام حربے استعمال کئے گئے۔انہوںنے کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آر ایس ایس اور بی جے پی کی ذیلی تنظیم کے طور پر کام کررہی ہے اور آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھر کر اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت نے کشمیری عوام کو جیلوں میں بند کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیاہے۔

محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت کے سیاہ کارناموں نے انسانیت، شرافت، اخلاق، سیاست اور قانون کو شرمسار کردیا کیونکہ شہداء کی نماز جنازہ پڑھانے یا ان کے ساتھ تعزیت کرنے والوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا جاتا ہے جس کی تازہ مثال تحریک حریت کے رہنما محمد رفیق اویسی اور جماعت اسلامی کے بشیر احمد لون کی ہے۔ ان دو نوں رہنمائوں نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع بٹ کی نماز جنازہ پڑھائی اور تعزیتی مجلس سے خطاب کیاتھا۔

خیالات کی جنگ کا ڈھنڈورا پیٹنے والی کٹھ پتلی حکومت نے دونوں کو گرفتار کرکے راتوں رات کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوٹ بھلوال جیل جموں پہنچادیا۔ انہوں نے کہاکہ محمد رفیق اویسی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، بچپن سے تحریک آزادی کے ساتھ وابستہ ہیں اور آج تک 14سال جیلوں میںگزارا چُکے ہیں۔ اُن کے گھر میں صرف اُن کے بزرگ والدین ہیں اور موصوف اُن کا واحد سہارا ہیں۔

دریں اثناء تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں ناگم چاڈورہ سے تعلق رکھنے والے سجاد احمد بٹ اور مشتاق احمد گنائی کو عدالت میں پیش نہ کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل انتظامیہ اُن کی نظربندی کو طول دے رہی ہے۔انہوںنے کٹھ پتلی حکومت سے انتقامی پالیسی ترک کرکے تمام نظربندوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ترجمان نے ٹکی پورہ لولاب میں مقیم بھارتی فوج کے کیمپ کی طرف سے عوام پر مظالم ڈھانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کیمپ کے فوجی اہلکاروں نے عوام کا جیناحرام کردیا ہے۔

کیمپ کے فوجی اہلکار خاص طورنو جوانوں کو نشانہ بنارہے ہیں اورداڑھی اور لمبے بال رکھنے والے نوجوانوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ان کے شناختی کارڈ ضبط کرکے کیمپوں پر حاضری دینے پرمجبورکیاجاتا ہے۔ترجمان نے کولگام، شوپیان، پلوامہ، اسلام آباد،،سرینگر،، بارہ مولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کی شدید مذمت کی۔