دنیا بھر کی طرح 13مئی کوپاکستان میں بھی ماں جیسی عظیم ہستی کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن منایا گیا

ماں اور اولاد کا رشتہ لازوال ہے جسے کوئی اور نہیں سمجھ سکتا،ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا اظہارالفاظ میں نہیں کیا جاسکتا، وفاقی وزیراطلاعات ماں ٹھنڈی چھائوں کی مانند ہے، اس کی ٹھنڈک کا احساس زندگی کے ہر موڑ پر ہوتا ہے، اس عظیم ہستی سے محبت کے لیے ایک دن تو کیا ساری زندگی مختص کرنا بھی کم ہے، محنت کش خاتون عاصمہ کا ماں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

اتوار مئی 15:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) دنیا بھر کی طرح 13مئی کوپاکستان میں بھی ماں جیسی عظیم ہستی کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن منایا گیا، وفاقی وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا اظہارالفاظ میں نہیں کیا جاسکتا۔تفصیلات کے مطابق 13مئی کودنیا بھرکی طرح پاکستان میں بھی ماں جیسی عظیم ہستی کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن منایا گیا،ماں ایک ایسا لفظ ہے جسے سنتے ہی ذہن میں شفقت، خلوص، صبر اور قربانی سے بھری ایک ہستی کا خیال ابھرتا ہے۔

کائنات کے مصور نے خوبصورت جذبوں کو ماں کا روپ دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ قدرت کا وہ تحفہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں وہ صرف ماں ہے۔وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب بھی ایسی ہی ایک باہمت اور بہادر ماں کی بیٹی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا اظہارالفاظ میں نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ماں اور اولاد کا رشتہ لازوال ہے جسے کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک بیماری کے باعث 14 سال بستر پر رہیں اور چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھیں۔ مریم اورنگزیب نے اپنی ماں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج جہاں بھی ہیں انہی کی بدولت ہیں۔این این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے آصفہ نامی خاتون نے کہاکہ ماں کو اللہ تعالی کی رحمت قراردیا۔ وہ مانتی ہیں کہ اچھی مائیں ہی معاشرے کو بہترین افراد مہیا کرتی ہیں جو خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔

ایک محنت کش خاتون عاصمہ نے کہاکہ وہ گزشتہ پندرہ سال سے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ ان کو تعلیم بھی دلوا رہی ہیں۔ یہ عظیم ماں اپنے جگر گوشوں کے لیے دن بھر کاموں میں جتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماں ٹھنڈی چھائوں کی مانند ہے۔ اس کی ٹھنڈک کا احساس زندگی کے ہر موڑ پر ہوتا ہے۔ اس عظیم ہستی سے محبت کے لیے ایک دن تو کیا ساری زندگی مختص کرنا بھی کم ہے۔