چھٹی اور ہاف ڈے میں کام کرنے کے اضافی معاوضے اور حفاظتی آلات کے بغیر سڑکوں ،گٹروں ،نالوں کی صفائی کروائی جانے لگی

بغیر سیکورٹی کے خاتمے کاکام کروایا جارہا ہے ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ سے واٹر کمیشن کو مینڈیٹ کے تحت کام کرنے کے احکامات جاری کرنے کا مطالبہ

اتوار مئی 18:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) سپریم کورٹ کے حکم پر صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم کردہ واٹر کمیشن اپنے مینڈیٹ کے تحت کام کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکا ۔حالانکہ سرکاری مشینری ،افسران وملازمین کو دیگر تمام سماجی مسائل کو چھوڑ کر صرف رات دن واٹر کمیشن کے جاری کردہ احکامات ماننے کا پابند کردیا گیا ہے ۔

لیکن 24گھنٹے کام کرواکر ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔چھٹی والے ایام ،ہاف ڈے اور ڈیوٹی ٹائمنگ کے خاتمے کے بعد زبردستی کام لینے کے باجوود تاحال ملازمین کو اضافی معاوضے کی ادائیگی کا طریقہ کار طے نہیں کیا گیا ۔ایک سال سے زائد عرصے سے سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کے ساتھ کام کرنے کے باوجود ملازمین طے شدہ SAMAAمعاہدے کے تحت 25فیصد اضافی الائونس کی ادائیگی سے محروم ہیں ۔

(جاری ہے)

چائینز کمپنی کی ناکارہ بائیومیٹرک سسٹم کی وجہ سے ملازمین پورا مہینہ بائیومیٹرک حاضری لگوانے کے باوجود تنخواہوں کی ادائیگی اوراکثر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کردی گئی ہے ۔بغیر حفاظتی آلات کی فراہمی کے سڑکوں ،گٹروں ،نالوں کی صفائی کروائی جارہی ہے ۔جبکہ مناسب سیکورٹی نہ ہونے کے باوجود تجاوزات کے خاتمے کا کا م کروایا جارہا ہے ۔

جس سے ملازمین کی قیمتی جانیں خطرے میں پڑی ہوئی ہیں ۔۔بلدیاتی اداروں کی اربوں روپیوں کی قیمتی مشینری چائینز کمپنی کی جانب سے مرمت نہ کیے جانے سے ناکارہ ہورہی ہے ۔کچرے کی وزن میں اضافے کے لیے ملبہ ،مٹی شامل کرکے لاکھوں روپیوں کی اضافی بلنگ کی گئی میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کے صدر سیدذوالفقارشاہ اور جنرل سیکریٹری ملک نواز نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ واٹر کمیشن کو اپنی مقررہ مدت میں مینڈیٹ کے تحت کام کرنے کی پابند کیا جائے اور کسی بھی آفیسر یاملازم کی واٹر کمیشن کو تذلیل کرنے سے بھی روکا جائے ۔البتہ کوتاہی غفلت پر کاروائی کی جائے ۔