ملک مصطفی ودیگر کا نواز شریف کیخلاف پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے پر غداری کا مقدمہ درج کراکر سزا دلوانے کا مطالبہ

پیر مئی 22:54

بنوں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء سابق اُمیدوار قومی اسمبلی ملک مصطفی خان نے تمام ذیلی شاخوں کے رہنماؤ ں ملک اسفند یار خان ،شب نیاز خا ن اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے پر غداری کا مقدمہ درج کراکر سزا دلوانے کا مطالبہ کیا مصطفیٰ خان نے کہا کہ بھارت اپنے خفیہ اداروں کو ممبئی حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا چکا ہے لیکن پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذاتی مفادات کیلئے نیشنل سیکورٹی اور ملک کی دنیا میں ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں نواز شریف اپنی نا اہلی اور نیب کے خلاف حالت جنگ میں ہے، اس لئے وہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں حالانکہ بھارت خود تسلیم کر چکا ہے کہ ممبئی میں ہونے والے حملے خود ان کے انٹیلی جنس اداروں نے پاکستان مخالف لوگوں پر کروائے ہیں تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جاسکے۔

(جاری ہے)

اُنہوں نے کہا کہ نوازشریف چار سال وزیر اعظم رہے اگر وہ کہتے ہیں کہ ممبئی حملوں میں پاکستان ملوث ہیں تو اپنی دور حکومت میں ٹرائل کیوں مکمل نہیںکرایا اب جب وہ نا اہل ہو گئے ہیں نیب میں ان کیخلاف کرپشن کی تحقیقات ہو رہی ہے ،تو اب وہ نا اہلی کو جھوٹا ثابت کرنے اور کرپشن چھپانے کیلئے نیشنل سیکورٹی سے کھیل رہے ہیں جو کہ ملک سے غداری کے مترادف ہے نواز شریف کی سیاسی شخصیت عوام کی ان کے پاس امانت ہے ،عوام ہی نے ان کو ملک و قوم کی خدمت کیلئے اس مقام پر پہنچایا ہے ۔

اب انہی لوگوں کو دہشت گرد ٹھہرارہا ہے بھارت نے کلبھوشن کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرائی گرفتاری کے بعد ٹھوس ثبوت پیش کئے گئے مگر نواز شریف نے کلبھوشن یادیو پر ایک لفظ تک نہیں بولا جو کہ انڈیا نواز ہونے کا ثبوت ہے اس سے قبل بھی نواز شریف نے اپنی صاحبزادی کے ذریعے سے نیشنل سیکورٹی کی خفیہ معلومات لیک کرائی اور اپنی قیادت سمیت حامیوں کو ملکی سالمیت کے خلاف اکسانے کی کوشش کی اگر نواز شریف اور ان کے خاندان کو کسی سے ذاتی لڑائی ہے تو خود لڑے نہ کہ ملک کے خلاف زہر افشانی کرے اور ملک کے ساکھ کو نقصان پہنچائے انہوں نے نیشنل سیکورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کے بیانات پر غور کرکے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرایا جائے اور انہیں غداری ایکٹ کے تحت سخت سے سخت سزا دی جائے کیونکہ وہ خود یہ بیانات دے رہے ہیں کہ ان کے پاس کافی راز ہیں راز توضرور ہوں گے کیونکہ ایک ملک کے وزیر اعظم کے پاس بہت راز ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی ذاتی معاملات میں وہ کوئی راز آفشاں کریں اگر ان کے پاس راز ہیں اور اداروں کو ڈرا تے ہیں پھر تو اس ملک کے 18کروڑ عوام کے گناہ گار ہیں کیونکہ انہوں نے اس منصب تک پہنچا اور آج وہ اُٹھائے گئے حلف کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہیں لہذا انہوں نے خود کو غدار ٹھہرایا ہے لہذا اس کے خلاف کا رروائی کی جائے ۔