’’ سٹیزن آئی ایپ‘‘ اور’’ ایکس سروس مین ایپ‘‘ جدید پولیسنگ کا اہم سنگ میل ثابت ہوں گے، عوام اور پولیس کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوں گے، آئی جی پنجاب

منگل مئی 22:51

’’ سٹیزن آئی ایپ‘‘ اور’’ ایکس سروس مین ایپ‘‘ جدید پولیسنگ کا اہم ..
لاہور۔15 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ’’ سیٹیزن آئی ایپ‘‘ اور’’ ایکس سروس مین ایپ‘‘ جدید پولیسنگ کا اہم سنگ میل ثابت ہوں گے جن کی مدد سے عوام اور پولیس کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ پولیس افسران و اہلکاروں کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستان کی لیڈنگ فورس ہے جس کے زیر استعمال موبائل ایپلی کیشنز اوردیگر آئی ٹی اصلاحات ملک کے دیگر صوبوں کیلئے بھی قابل تقلید ہیں ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید پولیسنگ کے نظرئیے کو مد نظررکھ کر بنائی گئی ان اصلاحات کا دائرہ کار صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی پھیلایا جائے اور ساتھ ہی انکی مانیٹرنگ کے عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس سروس مکمل طرز زندگی اور ایک مقدس فریضہ ہے جس میں سزاو جزا کے عمل کو خاص اہمیت حاصل ہے، پنجاب پولیس کے تمام افسران و اہلکار یہ عہد کئے ہوئے ہیں کہ عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے اپنے خون کے آخری قطرے تک مصروف عمل رہیں گے ، پنجاب پولیس نے ماضی میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور مستقبل میں بھی اپنی درخشاں روایات کو برقراررکھتے ہوئے شجاعت اور فرض شناسی کی اعلی مثالیںقائم کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سی سی پی او آفس لاہور اور قلعہ گجر سنگھ پولیس لائن میں افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سی سی پی او آفس آمد پر آئی جی پنجاب کا استقبال سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس ، ایس ایس پی ایڈمنسٹریشن رانا ایاز سلیم ، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر معین مسعود اور سی ٹی او لاہور رائے اعجاز احمد سمیت دیگر افسران نے کیا۔

ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم نے لاہور پولیس کی جانب سے شروع کی گئی دو نئی موبائل ایپلی کیشنز ’’ سیٹیزن آئی ایپ‘‘ اور’’ ایکس سروس مین ایپ‘‘ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور پولیس کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی موبائل ایپلی کیشن ’’سیٹیزن آئی ایپ‘‘ کی مدد سے اب لاہور کا کوئی بھی شہری کسی بھی قسم کی معلومات ، شکایت یا تجویز فوری طور پر لاہور پولیس کے اعلی افسران تک پہنچا سکے گا ۔

شہری اس ایپ کی مدد سے ایسی تصاویر اور ویڈیو بھی پولیس افسران تک پہنچا سکیں گے جن سے جرائم کے خاتمے یا ملزمان تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہو ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس فورس سے ریٹائرڈ ہونے والے افسران اور اہلکاروں کے لئے ’’ ایکس مین سروس ‘‘ ایپ تیار کی گئی ہے جس کا مقصد ریٹائرڈ پولیس ملازمین کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کے ساتھ ساتھ جرائم کے خاتمے اور بہتر سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ حاصل کرنا ہے ۔

آئی جی پنجاب نے موبائل ایپس کی تیاری کے حوالے سے رانا ایاز سلیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ایپلیکیشنز کے استعمال سے نہ صرف صوبے میںجرائم پیشہ افراد کے خلاف موثر کاروائیوں میں مدد ملے گی بلکہ شہریوںاور پولیس کے درمیان اعتماد سازی کی فضا کو مزید مستحکم ہو گی۔اس موقع پر آئی جی پنجاب کو لاہور پولیس کے ٹرپل ون انفارمیشن سسٹم کی ورکنگ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔

سی سی پی اوآفس دورے کے دوران آئی جی پنجاب نے غیر ملکی وفود کی رہائش کیلئے بنائے گئے سی سی پی او آفیسرز لائونج کا بھی افتتاح کیا جس میں لاہور کے دورے پر آئے ترکش ، چائینز سمیت دیگر غیر ملکی مہمانوں کی رہائش کا مکمل انتظام موجود ہے جہاں انہیں بہترین سیکیورٹی سمیت درکار تمام سہولیات میسر ہونگی ۔ اس موقع پر سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس نے آئی جی پنجاب کو لاہور پولیس کی جانب سے یادگاری سووینئیر بھی پیش کیا۔

بعد ازاں آئی جی پنجاب نے قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دوران ڈیوٹی اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے آپریشنز، انویسٹی گیشن ، ٹریفک پولیس ، ڈولفن ، اینٹی رائٹس سمیت دیگر شعبوں کے افسروں اور اہلکاروں کو نقد انعامات سے نوازا ۔ آئی جی پنجاب نے انعام حاصل کرنے والے افسران و جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ محنتی ، فرض شناس اور قابل اہلکار محکمے کا قیمتی سرمایہ ہیں جن کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا ۔

انہوں نے ہدایت کی کہ افسران واہلکاربہترین پرفارمنس کے ساتھ ساتھ ا پنے رویوں سے بھی عوام الناس کے دل جیتیں اور سماج دشمن عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے بلا امتیاز اور موثر کاروائیاں جاری رکھیں۔ تقریب کے بعد آئی جی پنجاب نے پولیس لائن میں دیئے گئے بڑے کھانے میں بھی شرکت کی اور افسروں اور اہلکاروں میں گھل مل کر ان کے مسائل سننے کے ساتھ ساتھ موقع پر کارروائی کے احکامات جاری کیے ۔